بدھ، 27 نومبر، 2024

ادھوری روداد


ادھوری روداد 



 اے سفر زندہ باد

ہمارے منہ سے کئی "ر"  ایک ساتھ گر پڑے۔بات ہی کچھ ایسی تھی ہم اور سفر ایسا ہرگز نہ تھا کہ ہمیں کسی ڈاکٹریا نجومی نے منع کیا ہو مگر عالم خوف کا

سنا ہے کتّے کا کاٹا پانی سے بھاگتا ہے اور ہم کاہلی کے مارے سفر سے کوسوں دور رہتے ہیں۔ وہ بھی  بچوں کی ریزگاری لاد کر 'اف نہ بابا  ہم نے یوں ظاہر کیا جیسے سنا ہی نہیں ـ

گھر سے ادارہ جانے کے لیے تو ہمیں آیات ِجہاد کا مطالعہ دہرانا پڑتا ہے  یقینا  تیاری بھی کچھ ایسی ہوتی ہے۔ اجازت مشروط ہو یعنی گھر سے نکلنے سے پہلیکھانا،ناشتہ دھلائی،صفائی کے ساتھ دور قریب کے اعزہ سے خیریت وعافیت فون پرمعلوم کر لینا۔

اتنے مراحل کے بعد واپسی کا وقت دریافت کرنا اکثر ہمیں ابن ِبطوطہ بننے پر اکساتا مگر دائیں بائیں بچے ہماری باغیانہ سوچ کو سلادیتے۔مذاق تو پرانا ہے مگر بر محل ہے ہمیں سمندر میں دھکا دینے کے بجائے اس سفر پر روانہ کرنے کے لیے دوسروں سے بڑھ کر اپنوں کا ہاتھ ہے خصوصابچوں کی سکول انتظامیہ۔۔۔۔غضب خدا کا پہلے چھٹی بعد چھٹی درمیان میں اجتماع عام،سو گھر پر بچوں نے جو سماں باندھا

چلو چلو مینارِ پاکستان چلو  ----

 بڑھے چلو ساتھیو!

گو مگو کا عالم تھا یوں کراچی چھوڑ کر جانا ہمیں گوارا نہ تھاہمارے پیچھے  شہر کو کون سنبھالتا(خوش فہمی کی کوئی حد نہیں)اس دوران خالہ کا نہ آنا بھی بحث میں شامل ہو گیا۔ ہماری نہیں بچوں کی جن سے تعلق خاطر کی بناء پر گھر میں اہم مقام حاصل ہے 

 " وہ تو لاہور جانے کی تیاریوں میں ہیں " 

بچوں نے والد کو جوش و خروش سے اطلاع دی ۔

" اچھا! تو تم سب بھی چلے جاؤ۔۔۔۔کچھ گھوم پھر لینا  " بچوں کو تھپکی مل گئی۔اجازت یوں آسان ہوئی کہ تصور محا ل تھا۔ہم نے چپکے چپکے تیاری شروع کردی ۔جس بازار گذشتہ دس سال میں فقط ایک بار جانا ہوا تھا وہاں بچوں کے گرم کپڑے خریدنے کے لیے ایک دن میں دو بار ہو آئے۔ اپنی سہیلی کے ہمراہ درمیانے سے اٹھائے جانے کے قابل دو عدد بیگ بھی خرید ڈالے۔ مگر دل بے ایمانی پر تلا تھا۔ طرح طرح کے عذر پیش کرتا۔لمبا سفر، تین روزہ کیمپ کی مشقّت اتنا کام ۔ ہاں اور ناں کے درمیاں صبح شام بسر ہورہے تھے بہرحال جیت بچوں کے ہاتھ آئی اور روانگی کا دن آن پہنچا۔خرچ کا انتظام ہمیشہ کی ماننددست ِ غیب سے ہوا۔ زادِ راہ کے لیے توشہ دان میں دو وقت کے کھانے رکھے۔بچوں کی خالہ ایک دن پہلے بزنس کلاس میں روانہ ہو چکی تھیں۔

20نومبر جمعرات کی صبح گیارہ بجے کے بعد کسی ذمہ دار سے رابطہ نہیں ہوا تو وسوسہ کو زباں مل گئی کہ سب ہمیں چھوڑ کر سٹیشن چلے گئے۔ خیر فون پر جت گئیپھر اسماء کی بیٹی سے معلوم ہوا قرآن مرکز میں جمع ہیں۔تین بیگ اٹھاکر پہنچے تو کافی ساتھیوں کو بسوں کے انتظار میں پایا۔اپنے ساتھیوں کو دیکھ کر ہمّت بندھی۔سٹیشن پہنچ کر اژدہام کا سامنا تھا.

------------------------------------------------------------------------

عزیز قارئین! یہ نثر پارہ اس تحریر کا حصہ ہے جو دو سال قبل شروع کی گئی  یعنی 2015ء مگرغیر منظّم زندگی اورٹال مٹول کے باعث نامکمل رہی اور(اب ڈائری سے دستیاب ہوئی) یوں آپ ایک یاد گار تحریر سے لطف اندوز نہ ہو سکے(اپنے منہ میاں مٹھو)

"شاید قدرت کو یہی منظور تھا" اس فلسفہ کی بناء پر  اپنے عقائد کی جتنی اچھی تعبیر ہمیں کرنی آتی ہے دوسرا کوئی کیا کرے گا؟اپنی بشری کوتاہیوں کواوصاف میں ڈھالنا آساں نہیں۔اگر وقت پر کام مکمل کرنے کی مشق ہوتی تو آج حسرت میں مبتلا نہ ہوتے۔ اسی دوران ایک اور اجتماع کی نوید آن پہنچی سو دل کو تسلی دی کہ اجتماعِ پر بہت کچھ لکھا گیا اور ہمارا لکھا کون سا  حرفِ آخر ہے۔پھر ہم ہیں اور وہی ادھورے کام ـ 

کیا کریں قلم نے ادھوری روداد پر آگے بڑھنے سے انکار کردیا  سو بقیہ حصہ بچوں کے ساتھ یادیں دہرانے اور کچھ پرزوں پر درج نکات کی مدد سے  تحریر کرنا پڑا۔ بس کے سفر کے دوران خیال آیا کہ فرحت کو سرپرائز دیا جائے ہم بھی محوسفر ہیں مگر ہمیشہ کی طرح ان کے پاس ہم سے بڑا سرپرائز تھا کہ شرکاء اجتماع کی تعداد توقع سے زیادہ پہنچ گئی ہے مزید افراد اب سامان نہ باندھیں
۔سچی بات ہے ہمیں بڑی خوشی ہوئی مگر پوری رفتار سے دوڑتی بس رکوانا،اترنا، سامان  بچوں کو پکڑنا بس میں نہ تھا۔ پلیٹ فارم پر پہنچ کر محسوس ہوا کہ ٹرین روانہ ہو چکی ہے۔ یقین مانئے بڑا سکون ملا سٹیشن سے گھر واپسی کا سوچ کر!۔مگر بچوں نے رونا شروع کردیا۔نزدیک سے ایک بھائی آگے بڑھے۔ سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اجتماع گاہ پہنچانے کا عزم دہرایا۔ اور اہل علاقہ تک رہنمائی کی۔ نمازعصر کے بعد ٹرین چل پڑی۔ یوسف بہت سارے لڑکوں کو دیکھ کر خوش تھا۔ کبھی اسید، مصعب کے ساتھ اوپرچڑھتا،کبھی کھڑکی والی سیٹوں پر لپکتا۔رات کے اندھیرے اور ریل گاڑی چھکا چھک ۔۔۔

یوں تو پوری زندگی ایک سفر ہے اور اسی زندگی میں ہر انسان کو کئی مختصر،ضروری،ہنگامی،تفریحی اوربامقصدسفر پیش آتے ہیں کراچی سے لاہور کا سفر کہنے کو بارہ  پندرہ گھنٹے پر محیط ہے مگرنومبر کا مہینہ ہو تو   موسم  کا فرق سامان بڑھا دیتاہے۔سوئٹر  موزے، کمبل  گدے  ناشتے دان  سنبھالتے،یادوں کے شگوفے کھلاتے، دنیا کے عارضی قیام کی یاد دہانی کراتے  مینار پاکستان کی طرف رواں دواں۔    بات کہیں سے بھی شروع کی جائے مقصد نہ ہو تو  زندگی کی کتھا  پھیکی اور غیر دلچسپ ہوجاتی ہے عمر رواں چالیس  کا ہندسہ عبور کر لے تو  وقت گذرنے کی رفتار  سپر سانک طیارے جیسی  محسوس ہوتی ہے،زندگی کی امنگ اور بڑھ جاتی ہے۔ ایسا ہی ایک سفر 1989ء میں والدین کے ساتھ کیا تھا۔اپنے گھر والوں کے ساتھ کسی تحریکی سفر کا حصہ بننا یاد گار تو ہوتا ہے  ساتھ ہی نسل در نسل منتقل ہونے والی روایات مزاج  ماحول اور شخصیت  میں پوری طرح  رچ بس جاتی ہیں۔

 لاہور سٹیشن پر ہمارے استقبال  اور رہنمائی کے لیے مستعد افراد کی موجودگی تحریک  کا حسن لگا۔ کوئی ساڑھے  بارہ کے قریب  دھڑکتے دل  جذبات سے معمور داخلی دروازے سے اجتماع کی حسین دنیا میں پہنچ گئیجہاں ہر شخص اپنا  لگتا ہے۔  کا ش آخرت میں بھی ہمارے ساتھ ایسا اتفاقات کا سلسلہ ہو جائے۔سامان اور ساتھیوں کے ساتھ  سٹالز سے گذرتے رہائشی کیمپ  کا رخ کیا۔ جونہی حریم ادب کا  گلابی بینر نظر آیا۔بچے خوشی سے چلائے 

 "خالہ  "

دم بھر رک کر ملاقات کی مریم،توقیر  بھی موجود، بھاگ کرساتھیوں کو جا پکڑا۔ 

آہا!ضلع وسطی جو حدود پار کرکے اندرون سندھ کے کیمپ سے جا ملا تھا۔ ہمیں بیٹھنے کی جگہ ملی اس وقت جب قناتیں کھول  کر مزید  گنجائش  پیدا کی گئی۔ نماز کھانے کے بعد بچوں کو راستے  دکھائے اور کیمپ  میں ملنے سٹالز گھمانے نکلے۔ تھوڑی دیر میں ساتھی مل گئے تو   ماحول سے مانوس ہو گئے۔

 بیگ کا ذکر  نہ کریں تو سفر اور اجتماع کی یاد ادھوری لگتی ہے جن پر  ہم نے اپنی دانست میں ہشیاری کا ثبوت دیتے ہوئے  یوسف کا  نام لکھا  مگر یہ بات نہ سوجھی کہ وہ تو ہمارے ساتھ رہے گا۔ اور پھر ہمارے بیگ مسجد سے ہی دوسری بسوں میں رکھ دیے گئے تو تسلی  تھی کہ کینٹ پر اپنے ساتھ رکھیں گے۔ کینٹ پر ڈھونڈے پھر مردوں کے سامان میں، پھر تلاش ہوئے۔نئے، نیلے رنگ کے ساٹن کے لیڈیز بیگ  یہ  نشانی ایک ڈبے  سے دوسرے ڈبے میں دوہرائی  جاتی  جو  یقینا  نا کافی (مجہول) تھی،پوری ٹرین  ساز وسامان  کے ساتھ  انسانوں سے کھچا کھچ  بھری ہو اور سب اپنے سامان کی تلاش میں مصروف۔ خیر  لاہور سٹیشن پر  یہ سوچ کر پکڑے اب کہیں نہ جانے دیں گے  مگر  وہ اور ہم الگ الگ،گھر پہنچنے کے دو دن بعد بیگ بھی سفر ختم کر کے آگئے۔ لگے ہاتھوں علمی،ادبی محفل کا بھی تذکرہ ہو جائے،کچھ ادھوری سی،کچھ شاعری کچھ نثر یاد داشت کا حصہ بن گئی۔ رات گئے  جب  الطاف حسن قریشی اور  محفل کا رنگ ڈھنگ  کو تصور میں لاتے سکرین پر نظریں جمائے آوازوں پر کان لگاتے اور سامنے سے کوئی نہ کوئی فرد ہاتھ ہلا کر گلے لگا لیتا۔ جمعیت طالبات کے سٹال ڈھونڈ کر  پہنچے اور مختلف سرگرمیاں دیکھیں۔

 ہفتہ کا سورج ابھی طلوع نہیں ہوا مگر مینارپاکستان کے سائے تلے  آباد شہر میں تہجد پھر فجر کے بعد چہل پہل تھی۔ سب بہت پر جوش نظر آئے آج طلبہ کے پروگرام خاکے اور ترانے  جو ہونے تھے بچوں کی دل چسپی کا بھر پور سامان۔

 "بدلتی دنیامیں عورت کا کردار" 

  ہمیں تو اس شام کا اس وقت سے انتظار تھا جب  پروگرام کی اطلاع ملی تھی اس کائنات میں ہر شے  ہر لمحہ  میں تبدیلی سے گذرتی ہے تو عورت کیسے قابو پا سکتی ہے؟ مگر وہاں معلوم ہوا کہ ہم اکیلے نہیں ہیں اس بھر ی دنیا میں جو ایسا سوچتے ہیں کہ دنیا چاہے جتنی بدل جائے مگر مسلمان عورت اپنے اللہ کے عطا کردہ رنگ،حدود اور حقوق نہیں بدلنا چاہتی بلا شبہ صرف الہامی سلسلہ میں انسانیت  کی  بقا ہے۔

  ڈھلتی شام میں برادر اسلامی  ممالک کی نمائندہ خواتین اس تاریخی اجتماع  سے مخاطب  تھیں اور ہم سمیت ہزارہا پاکستانی خواتین شان سے محو گوش تھیں۔ بچے بھی ڈھونڈتے آپہنچے تھے مغرب کی ساعت جو ہوئی۔  

" مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے "

دھندلکے اندھیروں میں گھل  مل رہے تھے  ایسے میں نگاہوں نے جو نظارہ کیا اس  نے اس دنیا  میں جنت کا مزہ چکھا دیا۔ آسمان میں عجیب سماں تھا۔  بچوں کے ہاتھ مضبوطی سے تھام لیے۔ سامنے قد آدم اسکرین پر کچھ افراد ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے اللہ کی کبر یائی بیان کر رہے تھے،ساتھ میں لاکھوں کا مجمع آوازیں ملا رہا تھا۔نعروں کا جواب دے رہا تھا۔ رات کی سیاہی زمین پر اتر آئی تھی مگر زمین کے ستارے یک جان جگمگا رہے تھے ۔جگمگا ہٹ آسمان کی بے کنار وسعتوں میں قوس و قزح کی مانند طلوع ہورہی تھی۔ مخلوقات کی آنکھیں چندھیا رہی تھیں سینوں میں دل کی جگہ  سیال  شے حرکت کر رہی تھی۔ نعروں کی گونج فضائے بسیط میں ارتعاش پیدا کر رہی تھی  کیسا دل پذیر منظر اور کیسے عجیب لوگ تھے!

اسلامی تحاریک کے قائدین ایک،امت مسلمہ  ایک  جسد واحد ۔ یہ منظر جس نے دیکھا اس کی یاد داشت میں امر ہوگیا۔جس نے محسوس کیا اس کی تپش،حرارت اور جذبوں کے لمس الفاظ میں بیان کرنے کی تاب نہیں رکھتا۔رضائے رب کی  اس سے بہترین تصویر کشی کوئی اور ہو ہی نہیں سکتی۔ ان لمحوں کا ذکر رگ و پے میں سنسناہٹ دوڑا دیتا ہے۔

واپسی: اسما اور ساتھیوں نے اتوار کی دوپہر تک سامان سمیٹنے کی یاد دہانی کروائی 

"اف ابھی تو آئے تھے اور اتنی جلدی واپس " سوچ کر رہ گئے، ذمہ داران سفر کے لئے کھانا لینے میں مصروف، ہم علاقے کے ساتھیوں کے ساتھ  سامان گیٹ پر لے گئے پھر وہی ہوا جو ہم جیسوں کے ساتھ ہوتا ہے۔مجمع کے رخ   پرحرکت، سب  جدا ہوئے 

 سکول کی مس وسامہ، مس حبیبہ اور تسنیم باجی  رہ گئے۔ ایسے میں بچوں کے پسندیدہ  رائٹر نظر آئے۔ان کی والدہ بس میں سوار ہوگئی ہیں یہ سن کر سب کو  سڑک پار کی سوجھی  رضاکاروں نے پھر لاہور سٹیشن کے لئے بس میں چڑھا  دیا۔اسما سے فون اس وقت ملا جب پوری رفتار سے بس دوڑ رہی تھی۔ذمہ داران کے بغیر  جانے پرڈانٹ ہی لگنا تھی۔ ٹرین چلنے سے پہلے اسماچھوٹے  بچوں کے ساتھ نمو دار ہوئی تو جان میں جان آئی۔اب  یادیں ہیں اس سفر سے  وابستہ ایک گلدستہ کی مانند مہکتی  ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نگہت یاسمین                                   

پیر، 27 فروری، 2023

Bazar

Bazar


کہنے کو بازار ایک لفظ جہاں  ہر شے دستیاب ہے ۔ضرورت کا چھوٹا بڑا سامان۔ یہ دنیا بھی ایک بازار ہے۔جہاں ہمارے جذبات،خواہشات کی تسکین منہ مانگے داموں خریدی اور بیچی جاتی ہے۔

گاہکوں کی بھیڑ ہے بازار جو سجا ہے۔ آئینوں کی دکان میں کچھ پسند ہی نہیں آرہا  تابندہ ایک کے بعد ایک شیشہ کو دیکھتی پھر سر ہلا کر آگے بڑھ جاتی 

 



نومی ،سیما،روبی،بابا ،دادی سب لوگ اس کے شوق اور جنون سے عاجز نظر آرہے تھے۔یہ دوسرا ہفتہ تھا اور ہر دوسرے روز ایک نئے بازار کا رخ ہوتا۔ آئینوں کی دکانیں ،شاپنگ مالز سے آرٹ گیلریوں تک ایک سے ایک بڑھیا اور دلکش آئینے دکھائے جاتے مگر وہ اسکی تعریف و توصیف میں ملائے گئے قلابے یہ کہ کر اڑادیتی کہ مجھے اصلی آئینہ چاهئے جو۔۔۔۔۔۔۔

کھڑکی سے آنے والے جھونکے نے ڈائری کا ورق جلدی جلدی پھڑپھڑا کر کہیں  سے کہیں اور کسی اور  واقعہ تک پہنچا دیا۔دیوار پر آئینہ کے بالمقابل  بند کھڑکی سے چھن کر آنے والی چاندنی میں   لہراتےدرختوں، سرسراتے پتوں کا عکس نمایاں تھا۔دور کہیں حمدیہ گانوں کی  دھن بجائی جارہی تھی ۔جنوری کا اداس تنہا چاند اپنا سفر مکمل کر رہا ہے ۔آئینہ کی جگہ ابھی تک خالی ہے۔پارٹی میں دن ہی کتنے رہ گئے ہیں۔اور آئینہ کے بغیر ساری سجاوٹ بےکار لگے گی ۔مستطیل ہال کی لمبی دیوار پر یہاں سے وہاں تک آئینہ ہو اور پارٹی کاپورا  منظر ایک نظر میں دکھائی دے ،آنکھیں جھپکے بغیر اس نے تصور کیا ۔

کیسے  نادر مشورے ملے دیوار کی سجاوٹ پر۔سلمی آنٹی کی بات سن کر اس کا دل بھی للچایا، کلیسا کی دیواروں کی مانند شیکسپیئر کے ڈرامے کی منظر کشی!

دنیا کے عظیم مصوروں کے شاہکار ابھروا لیے جائیں تو ہال کی خوبصورتی کو چارچاند لگ جائیں۔عزی بھائی کی تجویز 

طلوع آفتاب کا منظر کتنا بھلا لگتا افقی دیوار پر یا عربی گھوڑوں کے نقش نئی زمینوں کو روندنے کی آرزو نگاہ مستانہ میں سجائے ۔ گھوڑے جو اسے بہت خواب ناک لگتے  مگر صرف دیکھنے میں، تصویروں میں، دستاویزی فلموں میں۔بیٹھنے اور دوڑانے میں لمبر گینی  یا                         بی ایم ڈبلیو

شاید دور جدید کا ہر انسان کشمکش میں ۔ماضی کے لمس میں جیون بتانے آرزو لیے مستقبل کی آڑی ٹیڑھی تصویروں کا سپنا سجائے آج لمحہ موجود میں کسی گرو یا ماسٹر سے "کامیابی"،"مقاصد" پر لیکچر !!افف      نیند سے بوجھل تابی نے میز پر سر ٹکادیا 

اوہ!اب مجھے سمجھ میں آگیا اپنی تابی کا نکتہ ۔    پاس سے ناز باجی کی آواز آئی ۔ " میری منفرد بچی  !!!                                          

 ہال میں      آئینہ سجانا چاہے جو ہر شخص کی شبیہہ میں حقیقی تاثرات منعکس کرے نہ کہ رسمی محبت ،نمائشی آداب

"یہ تو سراب ہے "یہ آئینہ تو مجھے وہ عکس دکھاتا ہے جو میں نے اپنے   ذہن  میں  بنایا ہوا ہے خوشنما، جاذب نظرِ ،  جرات مند 

مجھے تو ایسے آئینہ کی تلاش ہے جو میرا سچا عکس بنائے ۔میرا کھوٹ سارا میل ظاہر کردے۔ جیسی میں ہوں وہ دکھائے ۔اس کی آنکھوں میں عکس ہی عکس تھے اپنے ارد گرد شائیلاک جیسےسودخوروں کے ،بہادر سپہ کے کارناموں کے،ایمفی تھیٹر میں جھوٹ کا پہاڑ گھڑتے ابلاغی ماہرین کے اور خاموش مبلغین کے۔

سب نے اپنے ظرف کے مطابق ہی بازار  میں سودے لگائے اور منہ مانگے دام پائے ۔ دنیا ایک بازار ہی تو ہے ضرورت کا ہر سامان دست یاب ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نگہت یاسمین 

جمعہ، 28 جنوری، 2022

مدینہ اور مہنگائی

مدینہ اور مہنگائی

گہری خاموشی میں مدھم ارتعاش تھا خشک زمین پر دور تک چھوٹے چھوٹے سوراخ تھے ایک ننھی منّی مخلوق بل میں احتیاط سے داخل ہورہی تھی حشرات الارض کی زیرزمین دربار میں ہنگامی اجلاس جاری تھا سارے وزراء سر جھکائے بیٹھے تھے اتنے میں ملکہ چیونٹی سب کے درمیان سے گزرتی ہوئی اپنے تخت پر  جا بیٹھی۔

  میرے ساتھیوں!صورتحال یہ ہے کہ کالونی کے مختلف حصوں میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ ہمارے کتنی قیمتی کارکنان اور عوام بھوک کا شکار ہو گئے ۔خشک سالی نے تمام مخلوق کو تباہی سے دوچار کیا ہے سو  آج ہم سوچ بچار کے بعد  فیصلہ کرنے جمع ہوئے ہیں"

ایک بزرگ کارکن نے کھڑے ہو کر مودبانہ عرض کی" اے ملکہ حشرات الارض کچھ دن قبل ہمارے کھوجی سراغ رسانی کے لیے روانہ کیے گئے تھے ان کی جانب سے کوئی خیر خبر موصول ہوئی؟"

" گو کہ ہجرت آسان فیصلہ نہیں ہم سب ان کے انتظار میں ہیں۔"

"مگر ہماری نصف آبادی غذا کی تلاش میں جگہ جگہ بھٹکتی پھر رہی ہے " ایک جذباتی آواز ابھری اور سسکیاں بھی ۔

اچانک پانچ ممبران قطار بنا کر دربار میں داخل ہوئے ملکہ انہیں دیکھ کر اپنی جگہ سے کھڑی ہو گئی اور آگے آنے کا اشارہ کیا۔

" وہ ساتھی جو دانوں(رزق) کی تلاش میں بھیجے گئے تھے واپس ہمارے درمیان آچکے ہیں "

چیونٹی عوام نے پرجوش نعروں سے ان کا استقبال کیا تخت پر پہنچ کر ملکہ کی دائیں طرف تین بائیں جانب دو معاونین بیٹھ گئے

"کوئی اچھی خبر!!" سینکڑوں ننھی آنکھیں ان پر لگی تھیں۔

"آسمان و زمین کے واحد رب کی بزرگی سلامت " بزرگ کھوجی نے حمد بیان کی ۔

"عزیز ساتھیوں!! ہماری آبادی کے چاروں طرف خشکی اور قحط ہے۔تمام جاندار یا تو فنا کے گھاٹ اتر گئے یا کہیں دور ہجرت۔"

دربار میں گہری خاموشی چھا گئی۔ملکہ نے دوسرے کھوجیوں کی طرف نگاہیں گھمائیں ۔ دو اور کھوجیوں نے نفی میں سر ہلائے ۔آخری سراغ رساں نے ایک دوسرے کے طرف دیکھا اور ملکہ سے اجازت چاہی ۔

"عظیم ملکہ اور باہمت ساتھیوں! ہم نہ تو خود جاسکے مگر دوسری آبادیوں کو ہجرت کرتے دیکھا ہے ان کے قافلے ایک مثالی ریاست نئے"خیابان" کی جناب رواں دواں دیکھا "بزرگ کھوجی نے لرزتی آواز میں کہا ۔

نسبتا جواں سراغ رساں جوش  سے بولا "ملکہ یہاں سے کچھ دور انسانی آبادی نے مدینہ جیسی ریاست بنانے کا دعوی کیا ہے ۔اور ہمارے اطراف کے سارے جانور دھیرے دھیرے وہاں جا رہے ہیں "ننھی حشرات الارض کا دربار بیک وقت عقیدت سے کھڑی ہو کر نعرہ زن ہوگیا "مدینہ مدینہ مدینہ" ملکہ کو ساتھیوں کو خاموش کرانے میں کچھ لمحے لگے۔

"یہاں روز عوام کو مرتے رکھتے سے بہتر ہے کہ امید لے کر سفر اختیار کریں" توقف کے بعد پرعزم فیصلہ کیا ۔

"سپہ سالار کوچ کی تیاری کریں۔ بیماروں، بزرگوں، بچوں کو درمیان میں جگہ دی جائے۔ راستہ بتانے والے جاسوس قطار میں سب سے آگے ہوں گے۔" ملکہ کی آواز دربار میں گونج رہی تھی۔

یوں مثل مدینہ ریاست کی سمت ایک قافلہ اور گامزن ہوا ۔

—————————

ادھر مثل مدینہ ریاست میں وزیران مشیران کی میٹنگ شروع ہوا چاہتی۔ شفاف شیشے کے دروازے دربان بار بار کھولتے اور صاحبان کو سلام جھاڑتے ۔

غیر ملکی سوٹ میں ملبوس اراکین کابینہ کی آمد  جاری تھی ۔وزیراعظم کی گاڑی نظر آتے ہی ایک نوجوان وزیر جوش سے چلایا " ہوشیار، خبردار چیف اگئے " اتنی زوردار آواز سے چھت کے کنارے چلتی چیونٹیوں کی قطار تھرا گئ اور بمشکل خود کو زمیں پر گرنے سے بچایا مگر جو دلیہ کے ذرے اٹھائے چل رہی تھیں ۔کیمرے میں داخل ہوئے عین وزیراعظم کے بالوں میں جا گرے۔اف! ساری محنت برباد ہو گئی اتنی چیخوں نے کمرے میں بھی کوئی ہلچل نہیں پبا کی۔ وزراء کی آوازیں بھن بھن کا شور پیدا کر رہی تھی۔

سیٹ پر بیٹھتے ہی لائق فائق وزیر خزانہ سے رپورٹ طلب کی ۔ساتھ ہی حکم صادر کیا "کہ ہر صورت میں بجٹ پاس ہونا چاہیے اگر نہ ہوا تو ہمیں بےعزتی اٹھانی ہوگی شاید کسی کے گھر جانا پڑے" دھمکی بھی جڑ دی ۔ گردشی قرضے ،سرمایہ، آئی ایم ایف ،نئے ٹیکس بالواسطہ مہنگائی کئی گھنٹوں تک بحث جاری رہی۔

"بجٹ سے مہنگائی میں اضافہ کیسے کم کیا جائے ؟"نئےنئے وزیر کا جوش دیکھنے کے قابل تھا۔

جلدباز وزیر اطلاعات نے مائیک سنبھال لیا:"سر  اصل چیلنج مہنگائی کم کرنا نہیں کم ثابت کرنا  ہے۔"

" سر مہنگائی تو ایک مفروضہ ہےجوسائنسدان مکمل طور پر رد کر چکے ہیں۔" وزیر سائنس اپنا منہ کھولا۔

"سر اولا مہنگائی تو گذشتہ حکومت کی وجہ سے ہے غیر ملکی کمپنیوں کو چھوٹ دی گئی ہے ہے کہ وہ جہاں جہاں چاہے آزادانہ سرمایہ لگا کر قبضہ کرلے" ان کا منہ ہر گز بند نہ ہوتا اگر وزیراعظم کی نگاہ ان پر نہ جم جاتی۔

" سر بجٹ پاس کروانے کے تین نکات ہیں ہیں مہنگائی کا تاثر ختم ہوسکتا ہے۔"خوشامدی ڈاکٹر گویا ہوئے "ایک سرے سے  مکر جانا کہ مہنگائی ہے۔ دنیا کے دوسرے ملکوں سے موازنہ بالآخر ثابت کرنا" ۔

بڑ بڑ  وزیر داخلہ نے بات اچک لی۔ " گذشتہ حکومت پرملبہ گرا دینا اور اپنی سادگی کفایت شعاری کے قصے گھڑنا  سب سے اہم حزب مخالف کے ارکان کو خریدنے کی کوشش کرنا۔"

 ان کو چپ کرانا آسان نہیں تھا مگر قوانین کائنات  میں اچانک مونو سیکنڈ کے لئے ایک تبدیلی رونما ہوئی انسانی کانوں کی حد سماعت ختم کر دی گئ تو سسکیوں اور" رحم مالک مالک" کی باریک آوازوں نے ہائی پروفائل شخصیات کو آرام دہ نشستوں پر چونکا دیا سارے وزراء ایک دوسرے  کو گھورنے لگے۔

وزیراعظم نے مشکوک انداز میں میز کے نیچے جھانکا چمکتے فرش میں اپنی شبیہ نظر آئی آئی تو سر اونچا کرکے غرائے "کون ہے؟"

بند دروازوں کے باہر کھڑے دربان بھی الرٹ ہوگئے ۔

"سر شاید باہر سے آواز آئی ہے۔"

"سر اخبار والے بڑے فسادی ہیں ہر وقت حکومت کی بدحواسیاں نوٹ کرتے رہتے ہیں۔" مختلف آوازیں کمرے ابھریں۔

وزیر قانون نے فورا صفائی کا عملا طلب کرلیا جوں ہی انہیں چھت پر  قطار میں چیونٹیاں نظر آئیں۔

اتنے میں وزیر اعظم کے سیکرٹری نے اس دن کا باقی شیڈیول دوہرایا  جس کے مطابق سیلون کا وقت ہوا چاہتا تھا۔جس طرح ان کے بالوں میں گرے دلیے کے ذرے کوڑے کے ڈبے میں پہنچ گئے ادھر کابینہ کے کمرے میں حشرات الارض چرمر ہو کر مدینہ کی فضاؤں میں بکھر گئے۔

یوں دو ریاستوں کے پارلیمانی قصے بیان ہوئے مگر دونوں میں آغاز سے انجام تک انتہائی تضاد ہے ۔کسی بھی کردار و واقعات کی مماثلت محض فرضی اور اتفاقی ہے اور ناچیز کسی ناخوشگوار صورتحال سے بری الذمہ ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نگہت یاسمین


پیر، 12 جولائی، 2021

فرد جرم

                                                                                  فرد  جرم

                                                                 سلمی  نے سر اٹھا کرایک نظر بوسیدہ چھت کی طرف دیکھا جہاں ننھے ننھے سوراخوں سے دھوپ خیمہ میں چاروں جانب پھیل چکی تھی۔پھر آھستہ سے ٹاٹ کا پردہ ھٹا کرباہر جھانکا تاحدنگاہ ریت ہی ریت چمک رہی تھی۔ کہیں کہیں زیتون کی جھا ڑیاں برگ وبار کے بغیر مرجھائی کھڑی تھیں۔صحرا میں دور تک ا پنی ہی زمین پر پناہ گزینوں کے بد رنگ خیموں کی قطاریں غیر انسانی ماحول میں کیکٹس کی مانند سر اٹھا ئے ہوئے آسمان سے آگ برساتے سورج کو رحم طلب نظروں سے تک رہی تھیں۔ کچھ فرلانگ کے فاصلے پر خاردار تاروں کے پیچھے اسرائیلی سپاہی چوکی میں بیٹھا دور بین لگائے نگرانی پر،مامور بیزاری سے ریت کے ذروں کو گھور رہاتھا کہ اقوام متحدہ کے ھیومن ریسورس شعبہ کا جنرل  ہیرس چوکی میں داخل ہوا۔درشت اسرائیلی فوجی افسران کی مقابلے میں یہ کرنل سنتری کو خاصا ڈھیلا محسوس ہو تھا اس نے ھلکا سا سیلوٹ مار کر بے دلی سے دور بین ھیرس کی جانب بڑ ھاد ی۔

 گرم ہوا میں بچوں کی آوازیں گونج رھی تھی۔سلمی نے آنکھوں کے آگے ہاتھوں کا چھجا  بنا کر ٹیلے کے اطراف کھیلتے بچوں میں سالم کو تلاش  میں نظریں دو ڑا ئیں کہ اچا نک ایک سیٹی کی آ وا ز پر نشا نہ بازی کے کھیل میں مشغول بچے منتشر ہو نے لگے۔ٹیلے کے پیچھے سے نمو دار ہو نے وا لے لڑ کوں میں سا لم نما یا ں تھا۔ قریب آ کر ساتھیو ں کو الودا عی سلام کیا اور ما ں سے لپٹ کر خیمے میں دا خل ہو گیا۔نو عمر لڑ کے کا پر دہ ھٹا کر خیمو ں کو لو ٹتے ہو ئے سا تھیو ں سے بات کر نے کا منظر اور پس منظر میں کھڑی ماں نے ہیرس کی تو جہ کھینچ لی۔ صحرا کی دھو پ ریت کے ذرو ں کو سو نا بنارہی تھی۔ انتہا ئی طا قتور دور بین سے ان بے خا نما ں انسا نو ں کے چہرے ہا تھ برا بر فا صلے پر محسوس ہو ئے۔ ماں کا چہرہ، چہرے کے نقوش جنرل کی یا د داشت پر دستک دینے لگے۔

    ” ان پنا ہ گزینو ں سے ملا قات کر نی ہے!....“ اس کی حسیا ت بیدا ر ہو چکی تھی

تھو ڑی دیر بعد چوکی پر سالم اور سلمٰی مو جود تھے۔ سالم لا پر وا ہی سے اپنے ہا تھ میں پتھر کی گیند گھما رہا تھا۔ کبھی ایک ہا تھ سے اچھا لتا اور دوسرے میں منتقل کر تا۔ مگر سلمٰی دروا زے کے نز دیک نگا ہیں جھکا ئے بالکل ساکت دیر تک اپنے قد مو ں کو دیکھتی رہی۔ آ نکھو ں کی پتلیا ں بھی ٹھہری ہوئی، لب ایک دوسرے پرسختی سے جمے ہوئے! بے حد معمولی، خستہ لباس پہنے مگر پورے وقار کے ساتھ ایستادہ تھی                                                                 .  

”کس قدر بے نیا زی ہے؟ زندگی کی تمام بنیادی ضرو ریات سے محرومی کے با وجود کو ئی صدائے احتجاج نہیں! اس در جہ خا موشی؟؟“

”.......خوف اور اندیشو ں سے کو سو ں دور۔۔ان کے پا س ہے ہی کیا جسے کھو نے کا وہم ہو! شا ید ایسی ہی کسی عورت نے شیخ یا سین کو جنم دیا ہو گا .........“ جنرل سو چتا چلا گیا۔

   با لآ خر کئی با ر پلکیں جھپکا نے کے بعد وہ گویا ہو ئی   ”.....یہا ں کیو ں بلا یا ہے؟“

 ”. ....تم دور سے گلاب لگ رہی تھیں ......سونگھنے کے لئے..“ سنتری نے استہزائی لقمہ دیا مگر جنرل کے مڑنے اور غضبنا ک نگا ہوں کے سبب پورا نہ ہو سکا۔ جنرل نے اسے ہا تھ سے باہر جا نے کا اشا رہ کیا تو وہ بڑ بڑاتا ہوا نکل گیا اور جنرل نے جھنجھلا کر عرق شدہ پیشا نی پونچھی۔

 ایک  طرف سلمٰی کی لا تعلقی، خا موشی اور دوسری طرف سنتری کا گندہ  مذاق!

  ”....میں نے نا حق بلوا یا! ..........مگر یہ عورتیں اتنی مختلف کیو ں ہیں؟...“

   اسے ان گنت عورتیں یا د آ ئیں  لیلٰی، الزبتھ،اینا، شیری،جو لی،جینا، میری، ماریہ، ڈیا نا، ویرا، بار برا، ایمی، سو ہا، ڈیمی............

بیروت کے کلبو ں میں نا چتی تھرکتی، پیرس کی سڑ کو ں پر، با زا رو ں میں دل بہلا تی، گناہ پر آ ما دہ کر تی، کھلونا بنی، سجی سجائی،تر غیب دیتی، جنس ارزاں کے طور پر ہر جگہ عزت لٹا تی، نیو یا رک، کیلیفورنیا، ہا لی وڈ! سکون کی تلاش میں زندگی کے مزے لو ٹتی، جوا نی کا لطف انگیز کر تی، جبلتوں کو عریا ں  کر تی ،۔۔۔ان دو قسم کی عورتو ں کے درمیان قطبین جتنا بعد کیو ں؟؟

   اچانک اسے اپنی ما ں یا د آ ئی جو اسے پیدا ئش پر بیروت کے ہسپتال میں امریکی فوجیو ں کے قیا م کی یا د گا ر کے طور پر چھو ڑ گئی تھی۔ کلیسا کے یتیم خا نے میں اس کی پر ورش ہو ئی۔ دس برس کی عمر میں لبنا ن سے امریکہ ایک لا ولد جو ڑے نے پہنچادیا۔ اس کی ماں کو ن تھی؟ کہا ں گئی؟ وہ نہیں جا نتا تھا۔ یو ں ہی بھٹکتے ہو ئے وہ لا شعو ری طو ر پر مشرق و سطٰی کے سلگتے ہو ئے خطے میں بار بار آ جا تا تھا، شا ید ما ں کی تلا ش میں!پچا س سال کی عمر میں بھی ماں کے لمس کو ڈھو نڈتا!!                                                                                                                                        اسے سالم کی آ وا ز نے چو نکا دیاجو ما ں کو جھنجھو ڑ رہا تھا۔ تذبذب کے عا لم میں جنرل نے سوا ل کی ”......تم سارہ کی بہن یا .....بیٹی ہو؟؟....“ سلمٰی کے چہرے کے تا ثرا ت بدلتے دیکھ کر جنرل کو اس کے شنا سا چہرہ کا سبب معلوم ہو گیا 

    ”....میری خا لہ تھی.....تم وا قف ہو؟“  سوالیہ نظریں سلمٰی نے اٹھا ئیں

   ”..تھی؟ ...تو کیا؟؟........“ جنرل کا جملہ ادھو را رہ گیا

   ”ہا ں وہ آ زا دی کی خا طر جا ن ہا ر گئی.....“ وہ عجیب سے انداز سے مسکرا ئی

   ”مگر کب؟ کیسے؟ “ جنرل کا اضطراب چھلک اٹھا

   ”....کیا مطلب؟؟؟ تم سمجھتے ہو کہ ہم کیمپو ں میں پکنک منا رہے ہیں؟؟ یہاں نہتے مرد، عورتیں  اور بچے بھی اسرا ئیلی جا ر حیت کے آ گے سینہ سپر ہیں۔ ار ض فلسطین تو سا ٹھ سال سے حا لت جنگ میں ہے .......“ ملا متی لہجہ جنرل کا منہ چڑا نے لگا اور وہ سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔

   ”....وہ ایک گو ریلا لڑا کا تھی! دشمن کو مطلوب! پھر ایک محا صرہ ہوا۔ سا مان خورد و نو ش بند، دوا ئیں طبی سہو لیا ت منقطع، اندھا دھند بمباری! وہ اور اس جیسے لا تعداد جان ہا ر گئے.....کب تک لڑ تی؟ اس کی آ واز بتد ریج مدھم ہو تی چلی گئی اور چا رو ں طرف ایک بے نام با ز گشت گو نج اٹھی۔۔۔۔۔”...کب تک لڑ تی؟ ......کب تک لڑ تی؟   کب تک؟...“

    ” ....سعاد؟ ....“ خالی الذھن جنرل نے کر سی تھا م لی

    ”.....سارہ اور سعاد آ سما نو ں پر بھی ساتھ ساتھ آ زا دیء وطن کی منتظر ہیں .....“

     جنرل کو اپنے کیریر کی شرو عا ت یا دآ ئیں۔ جنگ زدہ خطو ں میں فریقین کے مابین صلح بندی کر وا نا اور پھر عا رضی جنگ بندی کو بر قرار رکھنا، اقوام متحدہ کے بنیا دی مقا صد!! ...... کس قدر متا ئثرکن تھے!۔ عرب شیو خ کی با ہمی چپقلش نے ار ض مقد س کو مسئلہ میں تبدیل کر دیا۔ پھر امن فوج میں شمو لیت نے اسے لبنان پہنچا دیا۔ مسلمان، عیسا ئی اور دروز میں تقسیم! گو نا ئٹ کلب کی زندگی تو روا ں دوا ں تھی بلکہ پہلے سے بھی افزو ں تر مگر زیتو ن کے با غو ں میں ادا سی اتر آ ئی تھی۔ ستم رسیدہ فلسطینیو ں کے امڈ تے قا فلے سرا پا سوا ل تھے اپنے عیاش حکمرا نو ں سے!

  اس کی اولین پو سٹنگ بیروت کے گرد و نوا ح میں ہو ئی۔ اسے تو اپنی ماں کی کشش وہا ں لے گئی تھی۔ فا رغ اوقا ت میں ہر عورت کے چہرے کو ٹٹولتا، اس کے نقوش اپنے خد و خال سے ملا تا! یہیں پر سا رہ اور سعاد دونو ں بہنو ں سے سا منا ہوا۔ تحریک آ زا دی ء فلسطین کی سر فرو ش! سعاد تو مارے نفرت کے اس سے بات تک کر نا پسند نہ کر تی مگر سارہ جس کی آ نکھو ں میں شرارے نا چتے تھے بری طرح الجھتی۔ اپنی شادی کی رات بیوہ ہو جانے وا لی عورت...اسے حیرت ہو تی کہ غم میں ڈوب جا نے کے بجا ئے اپنے وطن کی با زیا بی کا نعرہ لگا تی تھی۔ اس نے سو چا ایسی ہی کوئی عورت ماں کی یا د بھلا سکتی ہے ...مگر یہ بات کہنے میں دونو ں کے درمیان مذا ہب کے علا وہ بھی بہت کچھ مانع تھا زندگی کے تضا دات نے اسے ضرور لا دین بنا دیا مگر سارہ تو مو منہ ہی تھی۔

     اور پھر صا برہ اور شتیلہ کے  کیمپ 1982  .....بمباری سے لرزہ خیز قتل عا م کی یا د نے اسے آج بر سو ں بعد بھی رلا دیا۔ظلم بڑ ھتا ہے تو مٹ جا تا ہے مگر بیت المقدس کے تا خت و تا راج سے جبری بے دخلی تک اور قبضہ سے  غزہ، رفا ہ کے محا صرے تک، 1948 سے 2010تک ظلم مسلسل بڑ ھتا گیا۔ اقوا م متحدہ، امن فوج، بین الاقوا می ثا لثین، امن معا ہدے، آ زاد ذرا ئع ابلا غ در پر دہ ظلم و منا فقت کے سا جھے دا ر تھے۔ نقشہء امن کی صورت گری  محض خواب و خیال ہے!  

  تم جو چاہو .....تو تمہاری رہا ئش کا بندوبست ......پیرس یا یو رپ کے کسی شہر میں ہو سکتا ہے .......“  جنرل نے رک رک کر بد قت تمام اپنی بات مکمل کی۔ سلمٰی نے نگا ہیں اٹھا کر جن نظرو ں سے اسے دیکھا جواب کا بخو بی اندا زہ ہو گیا! اس کا لہجہ خنجر اور الفا ظ گو یا تلوار تھے ”.....یورپ جہا ں بوسنیا ہے؟؟، وہی یو رپ جس نے نا م کی مسلمان آ با دی کو خاک و خون میں رنگ کر نسلی تطہیر کے فلسفے کو عملا ثا بت کر دیا ہے.....“

  بوسنیا! ...“ جنرل چو نک گیا  ”....تو کیا وہ جا نتی ہے کہ اقوام متحدہ کی امن فوج نے بوسنیا میں کیا کیا؟؟اس کا منہ کھل گیا                                    ہم بیروت، اردن، عمان، عقبہ میں تین چار نسلو ں سے پناہ گزین ہیں! ہم صحرا کی ما ئیں ہیں! ہم مجا ہدو ں، شہیدو ں کو جنم دیتے رہیں      گے۔ ریت کے ذرو ں کی ما نند ہماری مامتا سے تمہا ری آ نکھیں خیرہ ہو جا ئیں گی    ...“ سلمی کا قہقہہ گو نجا اور پھر ہو نٹ بھنچ گئے۔ سا لم حیرت زدہ سا ماں کو دیکھے گیا۔ دو نو ں جا نے کس لمحے گئے کہ اس کو احسا س بھی نہ ہوا یا پھر وہ کہیں دور پہنچ گیا تھا۔                                                                                              1992کا مو سم بہار! بو سنیا، مر غزا رو ں کا مسکن، حسین نظا رو ں کا وطن، فطرت سے مز ین!      کیمپ ہی کیمپ! دور تک خیمے ہی خیمے! پنا ہ گزین آ بادی کے لیے! ہر جگہ یہی ایک منظر تھا اور پس منظر بھی یکسا ں تھا۔ مسلما ن آ با دی کا غیر مسلمو ں سے تنا زعہ! اپنے ہی وطن میں کیمپو ں میں رہنے پر مجبور! ہر وقت جنو نی سر بو ں کے حملو ں کی زد میں رہتے۔کمیو نزم کی بسا ط لپٹنے کی سزا افغا نستا ن  سے لے کر یو گو سلا ویہ سا بق تک مسلما نو ں کے حصے میں آ ئی۔ ایک معمو لی سے زمین کے ٹکڑے پر بھی دعوٰ ی قبول نہ تھا! حکام بالا کی ھدایات کے عین مطابق سربوں کے حملہ ٓاور قافلوں کی نقل وحرکت پر صرف نظر رکھنا تھی جنونیوں کو روکنا یا ان کی خبر دینا ممنوع تھا۔ کیسا سیدھا سادا قتل عام تھاامن کا!انسانیت کا! تو پھر امن فوج نے بوسنیا میں کیا کیا؟؟ محض سربوں کو حفاظتی حصار فراھم کیا۔اور وہ بھی تو اس جرم میں شریک تھا جبھی تو بوسنیا کے نام  پر وہ بری طرح چونکا۔

          ہیرس جو بغیر کسی سفا رش کے لڑھکتاہو اکرنل کے عہدے تک جاپہنچا تھا،یوگو سلا ویہ میں چھڑی جنگ بلقان میں امدا دی کا رروا ئیو ں میں حصہ لیتے ہوئے ایک شام پہا ڑی سے جو لڑ ھکا تو ایک ضعیف عو رت کے قد مو ں میں جارکا۔...را ئفل سے سیدھے اس کے دل کا نشا نہ لیے ہو ئے! بین الاقوامی ادارہ کی جا نبداری نے مظلوم لو گو ں کے دلو ں میں آتش بپا کر رکھی تھی۔ سو اقوام متحدہ کو کافی جا نی نقصان اٹھا ناپڑا تھا۔ اسے بھی اپنا انجا م صاف نظر آ رہا تھا کہ اس نے کچھ مانگا بھی نہیں کتنی دیر تک وہ بے حس و حر کت پڑا رہا۔ مگر پیچھے سے آ تی آ واز نے اسے چو نکا دیا۔ضعیفہ نے بڑھ کر آوا ز دی                                                                                                                                 

          نر مین!..“   اپنے نام کی طرح نرم و نا زک،ملیح چہرہ جس پر سے نظر ہٹا نادل کے بس میں نہیں معلوم ہو تا تھا،مگر گہری اداسی نے جس پر ڈیرے ڈا لے ہو ئے تھے۔۔ وہ واقعی گلاب تھی! اس سے زیا دہ کچھ کہنا حد ادب سے تجا وز تھا۔ قریب پہنچ کر نرمیں کا اداس چہرہ اس کی وردی اور رینک دیکھ کر متغیر ہو گیا۔ اپنی گود سے ننھا بچہ ضعیفہ کوپکڑا دیا۔

    ” نانی! ایک کو مار کر کیا ہو گا؟ پوری بٹا لین، پوری رجمنٹ... “ وہ دونوں  ہاتھوں سے چہرہ ڈھانپ کر بلک پڑی۔                      

مگر اسے بتا دو کہ اس بچے کا نام صلاح الدین ہے جو پورے یورپ کے عیسائیوں اور اس کے سرب باپ کے لئے ایک ڈراؤنا خواب ہے۔جس نے مجھے نینی سے نرمین ہاشمی بنادیا.......“  اور غم و غصے سے چور سلیمہ نا نی نے وہ تلخ حقیقت کیا بیان کی گو یا اس پر فرد جرم عا ئد کر دی ۔ ارد گرد ماحول کی خوبصورتی، فطرت کا حسن جہنم زار میں     بدل گیا۔ 

 ”...زما نو ں سے ساتھ رہتے ہم تو محض نام کے مسلما ن تھے اور اس کی شا دی تو یقینا کسی سرب سے ہی ہو تی مگر مسلمان عورتو ں کو علیحدہ کر کے جبرابے عزتی کی منصوبہ بندی کر نا اور اس فوج کا مکروہ کر دار! جنو نی سر بیو ں کو تحفظ دینا .......“

   ”...تم نے ہمیں برف کی مائیں بنا دیا ...یخ بستہ، ٹھٹھرا دینے وا لی! ہمارے جذ بات، خوا ہشات منجمد ہو گئے ...“ نر مین کا لہو جمادینے والا لہجہ موسم بہار کی خنک ہوا میں اس کو کپکپا گیا۔ وہ صاف شفاف آ نکھو ں میں اپنے لیے نفرت اور انتقام بخو بی دیکھ سکتا تھا۔ اس کے سینے میں درد کی لہر اٹھی اس نے بھی تو سرب درندو ں کو تحفظ اور مدد فرا ہم کی تھی ......سو ایک ظالم اور مظلوم کے درمیان نفرت اور انتقام کے سوا کیا رشتہ ہو سکتا ہے.ظلم کی معاونت میں شرکت کے احساس نے اسے زندہ درگور کر رکھا تھا۔ اندر ہی اندر ایک عدا لت ہر لحظہ قا ئم ہو تی!!  ایک    غا صب اور محروم کے بیچ بجز دشمنی کچھ بھی مشترک نہیں!!  اس کا سانس پھول گیا مگر نر مین اپنے صلاح الدین کو سینے سے لگا ئے پا مر دی سے آ نکھیں بند کیے کھڑی تھی۔ اس نے چا ہا کہ نرمین اس کا گریبا ن پکڑ لے،اپنے دل کی بھڑا س نکا لے، چیخے چلائے اور اپنے اوپر ہو نے والے ظلم کی دہا ئی دے، بلکہ اسے جان سے مار دے مگر اس نے اپنے تمام جذ با ت اپنے بچے میں منتقل کر دیے تھے۔ صلاح الدین کا نا م ہی تمہیں سہما دے گا!!!

    جب وہ پیرس وا پس لوٹا تو بے حد بکھرا ہوا تھا ۔خاموش! خود کو پھر سے کتا بو ں میں گم کر لیا مگر اس کے اندر جنگ کے شعلے بھڑکتے رہتے۔ نفسیات کے علوم میں ڈ گری کے بعد ہیو من ریسورس ڈیپا رٹمنٹ میں تبا دلہ بآسا نی ہو گیا۔ اس ادارے کا  بظا ہرمقصدجنگ کے اثرات یعنی انسا نی المیو ں سے جنم لیتے نفسیاتی مسا ئل کا جا ئزہ لینا، رپو رٹ بنا نا، نفسیا تی مریضو ں کے تنا سب سے معا  لجین اور سہو لیات کا تعین کر نا،انسا نی ہمدر دی کی بنیا دو ں پر خیمہ بستیا ں قا ئم کر نا، جسم و جان کا رشتہ بر قرا ر رکھنے کے لیے کھا نے، ادویات، سہو لیا ت کی فرا ہمی و غیرہ تھی مگردر پر دہ مسئلہ جوں کا توں رہنے دینا، جا رح اور غا صب قو م کا پلہ بھا ری رہنے دینا۔یو ں انصاف کی دھجیا ں بکھیر تا عا لمی ادارہ اپنے قیام کا جوا ز ثا بت کر تا۔ اسے تو اپنی پیدا ئش کا جواز ہی سمجھ میں نہیں آ تا تھا۔ امن فوج کی کار کر دگی کیو ں کر سمجھ میں آ تی؟؟؟  مقبو ضہ فلسطین میں اسرائیلی سر حدو ں کے ساتھ ساتھ بے پناہ شکا یات ملنے پر بین الاقوامی دبا ؤ کاسا منا تھا۔ چنا نچہ کر نل ہیرس کو بطور نمائندہ جا ئزہ لینے جا ناپڑا۔فلسطینی آ بادی  میں اضافہ، ناگفتہ بہ سہو لیات کی وجہ سے بدلتے ہوئے سماجی رویے کی نشا ن دہی، بڑ ھتے ہو ئے نفسیا تی امرا ض نے اسے تشویش میں مبتلا کر دیا۔ وا پسی کا سفر سوچو ں میں کٹا۔

    ”  ظلم کے خلاف آ واز، جبر کے آ گے سینہ سپر! یہ تحریک مزا حمت ہم ما ؤں کے دم سے ہے!! اپنے جوان اور نو عمر بچو ں کو اسرائیلی ٹینکو ں کے سا منے کھڑا کر نا آ سان نہیں ہے۔ بلکہ اس سے بڑ ھ کر اسرا ئیلی جیلو ں میں نا قا بل بیا ن تشدد، تعذیب کا شکار مائیں، عور تیں مزا حمت کی تا ریخ اپنے خون، عز ت،جان سے رقم کر رہی ہیں اس کا تصور بھی محال ہے اور تمہاری رسا ئی بھی وہاں تک نہیں ممکن........‘‘سلمٰی کی آ واز آ سما نو ں سے گونج رہی تھی کہ ال ایل کی ائر ہو سٹس نے گرم کا فی کی پیالی سامنے رکھدی۔     

                           سا ری ماؤ ں نے اس کو ملزمو ں کے کٹہرے میں لا کھڑا کر دیا؟؟؟وہ تو ان پر ظلم کا ذمہ دار نہیں!!.......“ ”....مگر ظلم کی پرد ہ پو شی،حمایت بھی ظلم کا حصہ ہے......“ اس کے دل میں کسی نے سر گو شی کی          

”.....جس نے مجھے نینی سے نر مین ہاشمی بنادیا  .....“ اداس لہجہ رو ح میں اتر گیا۔ وہ اپنے اندر بر سو ں سے جا ری بحث سے تنگ آ گیا تھا۔ اس کانا م تو کبھی بھی جنگی جرا ئم میں ملو ث افراد کی فہرست میں نہیں شا مل رہا مگر وہ ایک نادیدہ سزا کاٹ رہا تھا۔ اسے اپنے صدر دفتر آ ئے ہو ئے دو ہفتے ہو چکے تھے۔

 اس کے ذہن میں بار بار وقتا فوقتا یہ مائیں نمو دار ہو تیں دائرہ کی صو رت میں ”ہم صحرا کی ما ئیں ہیں .........ہم برف زا رو ں کی مائیں ہیں ......“ گنگناتی، سیا ہ  ماتمی لب اس میں اپنے پا ؤ ں زمین پر ہلکے سے ما رتی!  اس نے خود کو بہلا نے کے کتنے جتن کیے مگر بے سود!! اسی کو شش میں اس نے شا م ہسپتال کے پا رک میں گزا ری۔ ننھے ننھے بچے اپنی بیما رما ؤ ں کے گرد کھیلتے کھیلتے دور نکل جا تے پھر آ کر ماؤ ں کے اطراف چکر لگا تے، ماؤ ں کا پیار لیتے۔

                                       اگلی صبح وہ ڈاک دیکھ رہا تھا کہ وا دی کشمیر سے آ ئے ایک خط نے اس کے اندر سلگتی ہو ئی چنگا ری کو ہوا دے دی۔ سری نگر کے نوا ح سے زیتو ن بیگم اپنے ذہنی معذور بیٹے کی بھا رتی افواج کے ہا تھو ں  اغوا اور پھر شہا دت کی تحقیقات کے لیے در خواست دی تھی ۔1948 سے وادی کشمیر حا لت جنگ میں ہے!!  ”کہسا رو ں کی مائیں ...“   ”اف!! ..“ اس کا سر بری طرح دکھنے لگا۔اس کی معا ون کشمیری نژاد ڈ اکٹر شیری اور ڈا کٹر زینت نے اس کے آ گے انسانی حقوق کی پا ئمالی کی رپو رٹ رکھ دی۔   ”دنیا کے کونے کونے میں موجود ما ؤ ں کو ذلیل و رسوا کر کے کس قسم کا امن متو قع ہے؟؟...“

 پھر اس نے قبل از وقت ریٹائرمنٹ کا اعلان کرکے سبھی ساتھیوں کو حیرت میں ڈال دیا۔کانفرنس ہال میں دنیا بھر سے پریس نمائندے جمع تھے۔      مشہور خبر رساں ایجنسی کا رپورٹرنے سوال کیا گویا اسے چھیڑا،،اب آپ کیریر کے اختتام پر زندگی کا آغاز کریں گے،، پورا ہال قہقوں سے گونج اٹھا۔ باون سال کی عمر کیا ہے!عیش عشرت کی کیا کمی ہے آ  پ کے لیے!!لیکن وہ تو کسی اور ہی دھن میں تھا؟؟خود کلا می سے انداز میں بول پڑا،

   ”  میرا تمام کیریران ماؤ ں پر قر بان!!!“   بو ڑ ھا جنرل دھا ڑیں مار مار کر رو نے لگا۔        ”....اے عزم و ہمت کے پیکرو ں! صبر و استقا مت کی تصویرو ں!اے حیا دار تہذیب کے گہوا رو ں! اے امت مسلمہ کی ماؤ ں! تمہیں سلام!!

 فلسطین سے کشمیر تک، بوسنیا سے عراق افغا نستان تک مسلمان ماں بری طرح لہو لہان ہے مگر اپنی مامتا، وقار کو قو می، ملی سلامتی پر غالب نہیں آ نے دیتی! جذ بو ں کو سرد نہیں ہو نے دیتی! بے دریغ قر با نیا ں دیے چلی جا رہی ہے اپنے بیٹو ں، بھا ئیو ں   اور عصمتو ں کی .....!!!“

   ”آج یو م مادر مہر بان پورے کرہ ارض پر تزک و احتشام سے منا یا جا رہا ہے مگر مجھے مغرب کے نما یاں تر ین فرد کو اپنی ماں کا علم نہیں! ہم نے اپنے سماج سے ماں کو ختم کر دیا۔ ایک جھولے سے اٹھا یا گیا بچہ جسے ایک لا ولد جوڑے نے گود لے لیا....  "

 اگلی صبح کے اخبارات میں ایک کالمی خبر تھی      اقوا م متحدہ کے human resource department کے جنرل ہیرس اپنی ریٹا ئر منٹ کے مو قع پر ذہنی توازن کھو بیٹھے۔ نیو یا رک کے نفسیاتی ہسپتال منتقل۔ جہاں ان کا علاج دو پا کستانی نژاد ڈاکٹرز کر رہی ہیں ...“


نگہت یاسمین

پیر، 6 اگست، 2018

چاند اور چناؤ


                                                                

            یوں لگا جیسے کسی نے اس کا کندھا ہلا یا مندی ہوئی آنکھوں کے ساتھ سر تکیہ سے اٹھایا اور ذہن پر زور ڈالا۔   کچھ یاد نہ آیا ہر سو اندھیرا تھا۔ اچانک کھڑکی سے آتی چاندنی میں کمرہ جگمگاگیا۔ رات کے پچھلے پہر چاند بادلوں سے آنکھ مچولی کھیل رہا تھا۔ اس نے بستر سے اترنے کا سوچا ،پھر کروٹ لیکر بے خبر سوتے  عثمان کو دیکھا ۔دن میں سرکاری ملازمت ,اور رات میں قریبی  چھاپہ خانہ میں روزگار کی مشقت ،جو کبھی کم اور کبھی زیادہ ہو جاتی ۔ دونوں صورتوں میں مشکل، چھپائی کا کام سست ہوتا تو اجرت بھی مختصر ملتی،کام بڑھتا تو تھکن بھی سود کی مانند چڑھ جاتی۔


                              ہما  کو اپنا  بچپن کا  آنگن والا پرانا گھر یاد آیا جہاں بیرونی دیواریں چھوٹی مگر صحن  میں چارپائیاں لگا کر سونے کا رواج تھا۔ ایک پلنگ پر وہ دادی کے ساتھ سوتی اور دوسری پر دونوں بھائیوں ثاقب اور شکیب کو لٹایا جاتا ۔اس چھوٹے سے آنگن میں پورا چاند ہر بچہ کے پاس آتا کتنی دیر تک وہ اپنے اپنے چاند سے باتیں کرتے " چندا ماموں دور کے " آہستہ آہستہ بوجھل آنکھیں  ہوتی۔،دادی کی تھپکیاں اور کبھی جھڑکیاں سیدھی کروٹ کرکےنیند کی وادی میں پہنچادیتی ۔اس نے آہستہ سے پیر زمیں پر ٹکائے اور بیٹھ گئی۔
               چاند بادلوں سے پھر جھانک رہا تھا۔ اسے لگا کہ مسکرارہا ہے اس کے ساتھ شریک ہے۔بچپن کی یادیں تازہ کرنے  بلارہا ہے۔ " آ ؤ اس سے بہتر کوئی موقع نہیں " وہ کتنی ہلکی پھلکی ہو گئی تھی اس سمے ،دل کے آسمان پربچپن جو طلوع ہوا تھا،معصومیت اور سچائی کا  دل  فریب  موسم ۔ ۔                                                                                                                                                                                                                                                      
                     چندا ما موں کی بانہوں میں بانہیں ڈالے لڑکپن کے دور میں پہنچ گئی۔سرکاری بنگلہ کی جافریوں والا برآمدہ اور مستطیل آنگن ۔نواڑ کے چوڑے پلنگ پر لیٹ کر چاند کو دیر تک تکنا۔پھر آنکھوں آنکھوں میں اس باتیں کرناکتنا سحر انگیز شغل تھا۔ بیلا اور رات کی رانی کی خوشبو،جھینگرکی مسلسل آوازیں رات کا  پیچھا کرتی  رہتی۔آدھی رات کو نیند  سے اٹھ کر کمروں میں لگے بستر پر ڈھیر ہوجانا۔                                                                                                                       

                    پھر کالج  میں داخلہ اور پڑھائی میں اسے خبر ہی نہ ہوئی کہ زمین وآسمان پر سورج اور چاند بھی طلوع ہوتے ہیں ۔  کتنی ہی شرارتیں اسے آج تک یاد تھیں مگرچاند کا ذکر  کسی واقعہ میں نہیں شامل  رہا ،شاید کسی اور کوچہ میں  بچوں کے بالوں سے اٹکھیلیاں کرتا رہا ہوگا۔  اسے لگا کہ ان دو سالوں میں  وہ بہت مصروف رہی   جو بچپن کے ساتھی  کو یوں نظر انداز کیا۔تھوڑی ندامت ہوئی  تو سر جھکا لیا۔  "اے  بات سنو ادھر دیکھو  " اس کی نگاہ بادلوں میں چھپتے چاند سے ملی۔" تم خود جو چاند بن گئی تھیں   " ہوا کے دوش پر  اڑتے بادل نے  تان لگائی۔
                        جامعہ میں گذارے  ماہ وسال اس کی یاد داشت  کی زمین میں سنگ میل کی مانند گڑے تھے۔جب وہ کہیں نہیں تھی بس ایک تحریک تھی جو ہر سو برپا تھی اور وہ اس تحریک کا حصہ تھی ،ایک نظم کا جزو تھی۔ایک جذبہ تھا  جو لہو بن کر رگوں میں دوڑتا تھا  ایک جنون تھا جو سر چڑھ کر بولتا تھا ایک نظریہ تھا   لاالہ ۔۔۔اور  شرق و غرب پر اسے غالب کرنا  تھا  افغانستان میں روس کی شکست کے اثرات سمندر کو کنارے  شہر تک محسوس کیے جاسکتے تھے ۔ اس کی مٹھیاں بھینج  گئیں ۔
                      اف کیسا منظر!!!! صرف اس کی خواہش نہیں لاکھوں دیوانوں فرزانوں کی زندگی اور موت کا مسئلہ تھا ۔یقین تھا کہ فتح مبیں  سے ہمکنار ہونے والے ہیں پھر دیکھتے ہی دیکھتے بازی الٹ دی گئی اندھے کی آنکھوں نے اس کے گرد اس شہر کے رہنے والوں کے گرد آسمان تک دیوار چن ڈالی ،نفرت کی دیوار ۔۔۔ جس نے محلوں گلیوں علاقوں کو تقسیم کر دیا ،دلوں کو تقسیم در تقسیم اب شہر انسانوں کا ہجوم تھا  نہیں چوروں ڈاکؤں کا یا پھر موت بانٹے والے اہدافی  قاتلوں کا  اور جو اس تقسیم سے بچ رہے وہ مجبور تھے یا محصور  پھر سالوں نہیں تین دہائیاں بیت گئیں ۔قوموں کی زندگی میں تیس سال کوئی بڑی مدت نہیں مگر جب سفر زوال کا ہو تو تباہی کتنی  ہولناک ہوتی ہے ؟
                 چاند اب کچھ سست پڑ گیا تھا  آنگن آنگن جھانکتا ،سسکیاں اور سوگ اس کی راہ جو روک لیتے  ۔کٹھ پتلی شہر میں  بھری بس  اغوا کر کے اذیت ناک موت کی خبر اعصاب کا امتحان لیتی،کبھی بھڑکتی آگ میں انسانوں  کو بھونا جاتا ۔ شاید شہری زندگی کے     مسائل زیادہ تھے  یا سہولیات ایک طبقے کےلیے مخصوص  ۔ ناانصافی تمام مسائل کی جڑ آج بھی ہے کہیں پانی کے لئے قطار میں کھڑے انسانی ہیولے ، شناخت سے محروم ۔۔۔  رات کے سناٹے میں سسکی  نکل گئی ۔ عثمان نے تکیہ سے سر اٹھایا اور سوالیہ نظروں سے دیکھا  پھرہاتھ کے  اشارہ  سے سوجانے کو کہا اور  کروٹ بدل لی۔
اگلے دن کا آغاز حسب معمول  سرگرمیوں  سے ہوا۔ ناشتہ ، بھاگ دوڑ  شہاب اور سجاد کالج ہنستے کھیلتے  روانہ ہوئے عثمان  دفتر۔اس نے اپنی دیرینہ ساتھی پرانی ڈائری دراز سے نکالی۔مگرقلم چلتے  چلتے رک رہا تھا۔
                  "آنے والے دنوں میں انتخابات کا سوچ کر عجیب و غریب کیفیت طاری تھی۔ پھر ایک دوراہا اآگیا۔میں اتنی اجنبی کیوں ہوں ؟میری قوم ہمیشہ غلط فیصلہ کیوں  کرتی ہے؟؟ کوئی بھی تو اہل نہیں ،صادق نہیں امین بھی نہیں ان میں سے جو  حکمرانی کر چکے یا جو متبادل قیادت کے  طور پر پیش کیے جارہے ہیں سوائے ان کے جن کا منشور خدمت ہے۔ جن کا دامن کرپشن سے پاک ہے۔ خدا جانے ارد گرد رہتے بستے انسانوں کا ہجوم ایک بار پھر کسے منتخب کرے گا ؟"آوازوں کے اژدہام نے اسے گھیر لیا۔
                        شام ہوتے  ہی سب یک جا   ہوئے۔ دن بھر کی مصروفیات  سناتے  کتنا وقت بیت گیا۔ " کیوں نہ تھوڑی دیر آنگن میں بیٹھیں ؟  میز سے اٹھتے ہوئے عثمان  نے بے ساختہ  کہا۔سمندری ہوا کے جھونکے  فضا میں نمی گھول رہے تھے۔ چھوٹا سا صحن اپنے مکینوں  سے سج گیا تھا۔آج بھی چاند بادلوں کے سنگ  اڑا اڑا  جا رہا تھا۔ رات ڈھلنے میں دیر تھی اور  اس کا  دل وسوسوں   سے  چور ۔
ایسے میں  شہاب اور سجاد  نے   کہا " مجھے یوں لگا جیسے کسی نے میرا کندھا ہلایا ہو۔۔۔۔
اس کی اآنکھیں حیرت سے پھیل گئیں  اس کے دونوں چاند شرارت سے اسے دیکھ رہے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نگہت یاسمین