مومو کا جہاز
بھول نہ جانا چاچا
تحفہ گھر لے کر آنا
میرا تحفہ یاد سے لانا۔بھولی مومو نے پوری قوت سے چلاتے ہوئے یاد دہانی کی۔
کیوں نہیں۔۔۔چاچو کی جان آپ کا تحفہ ضرور آئے گا۔
شیراز چوہدری نے حسب عادت ہاتھ ہلایا۔
"اگلی واری بھی قسمت نے ساتھ دیا تو چاند پر آنا جانا لگائیں گے" سوچ کر وہ مسکرائے۔"اور قوم کو چونا"
قریب سے آواز آئی۔
دائیں بائیں گردن گھمائی۔بلکہ خود بھی گھوم گئے مگر دور دور تک کوئی نہ تھا۔اوہو ایک تو یہ ضمیر بہت چٹکیاں لیتا ہے۔ خیر ہے غریبوں کے لیے بھی کچھ کرتے ہیں۔۔۔
"اگر غریب بچ گئے تو ویسے امکان تو نہیں ہی دور دور تک"
ضمیر نے پھر سر اٹھایا۔
" تو کیا کروں؟ملک کیسے چلے گا۔ انھوں نے ہاتھ ملے۔
ہے کوئی طریقہ؟ اس ملک کا وزیر اعظم 18 گھنٹے کام کرتا ہے ساتھ تم بھی لگے رہتے ہو۔ اب تھوڑی دیر مجھے اکیلا رہنے دو مومو کے جہاز کا بندوبست کرنا ہے "
چاچو گاڑی سے اترتے ہوئے آج کے ملاقاتیوں کی فہرست ذہن میں لاتے ہوئے گاڑی سے اترے۔
۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔
ادھر مزدور نیاز سڑک پر دوڑتی گاڑیاں دیکھ کر سر ہلا رہا تھا۔
"کام مل جائے کوئی بھی ہو" وہ بڑبڑایا۔ ساتھ بیٹھے حاکم نے گھانس کا تنکا توڑا تھا کہ کچھ آگے جاکر ایک گاڑی رکی۔
دونوں متوجہ ہوئے۔
گاڑی سے اترنے ہی نوجوان نے کیمرے کا رخ درست کیا۔
"مجھے کام بھی کروانا ہے اور کچھ بات بھی"
"باتیں؟ کام کیا ہے؟" دونوں بیک زبان بولے۔ نل سے پانی ٹپکتا ہے۔ ٹنکی بھی بنوانی ہے۔پہلے پراٹھا چائے
تھوڑی ہی دیر میں دونوں بھائی اپنے کچی بستی کے گرتے ہوئے مکان کا نقشہ کھینچ چکے تھے۔
کام کے لیے دونوں کے ہاتھ تیزی سے چل رہے تھے۔کیمرے والے کی مہربانی نے شاد کردیا تھا۔
"بھائی شہزادی نے کہا تھا چاچا میرے لیے کچھ لے کر آنا۔ حاکم نے پانچ سالہ بھتیجی کو یاد کیا۔
" جھلے اس کا نام مریم ہے یا مومو۔تو شہزادی کیوں کہوے ہے؟ نیاز سیمنٹ گھولتے بولا۔
"پولیو والی اس کو شہزادی بولے تو مجھے بھی اچھا لگے"
"یہ بول تجھے پولیو والی شہزادی لگے "
"بھا جی ہمری مومو بھاگ بھاگ کر کام کرے۔استانی جی سے اچھا پڑھے۔ "
"یہ تو ہے "نیاز نے بیٹی کو سراہا۔
"پھر کیا لے گا؟ "
جھاڑو لے یا بالٹی مگا لے ٹوٹ گیا ہے گھر ما۔۔۔"
"گڑیا بولی وہ تو لانے "حاکم کی زبان سے نکلا تو نیاز یک ٹک اسے دیکھے گیا بس دو آنسو خشک چہرے پر بہہ نکلے
.....................................................................................
نگہت یاسمین
21۔08۔2026
