جمعہ، 28 جنوری، 2022

مدینہ اور مہنگائی

مدینہ اور مہنگائی

گہری خاموشی میں مدھم ارتعاش تھا خشک زمین پر دور تک چھوٹے چھوٹے سوراخ تھے ایک ننھی منّی مخلوق بل میں احتیاط سے داخل ہورہی تھی حشرات الارض کی زیرزمین دربار میں ہنگامی اجلاس جاری تھا سارے وزراء سر جھکائے بیٹھے تھے اتنے میں ملکہ چیونٹی سب کے درمیان سے گزرتی ہوئی اپنے تخت پر  جا بیٹھی۔

  میرے ساتھیوں!صورتحال یہ ہے کہ کالونی کے مختلف حصوں میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ ہمارے کتنی قیمتی کارکنان اور عوام بھوک کا شکار ہو گئے ۔خشک سالی نے تمام مخلوق کو تباہی سے دوچار کیا ہے سو  آج ہم سوچ بچار کے بعد  فیصلہ کرنے جمع ہوئے ہیں"

ایک بزرگ کارکن نے کھڑے ہو کر مودبانہ عرض کی" اے ملکہ حشرات الارض کچھ دن قبل ہمارے کھوجی سراغ رسانی کے لیے روانہ کیے گئے تھے ان کی جانب سے کوئی خیر خبر موصول ہوئی؟"

" گو کہ ہجرت آسان فیصلہ نہیں ہم سب ان کے انتظار میں ہیں۔"

"مگر ہماری نصف آبادی غذا کی تلاش میں جگہ جگہ بھٹکتی پھر رہی ہے " ایک جذباتی آواز ابھری اور سسکیاں بھی ۔

اچانک پانچ ممبران قطار بنا کر دربار میں داخل ہوئے ملکہ انہیں دیکھ کر اپنی جگہ سے کھڑی ہو گئی اور آگے آنے کا اشارہ کیا۔

" وہ ساتھی جو دانوں(رزق) کی تلاش میں بھیجے گئے تھے واپس ہمارے درمیان آچکے ہیں "

چیونٹی عوام نے پرجوش نعروں سے ان کا استقبال کیا تخت پر پہنچ کر ملکہ کی دائیں طرف تین بائیں جانب دو معاونین بیٹھ گئے

"کوئی اچھی خبر!!" سینکڑوں ننھی آنکھیں ان پر لگی تھیں۔

"آسمان و زمین کے واحد رب کی بزرگی سلامت " بزرگ کھوجی نے حمد بیان کی ۔

"عزیز ساتھیوں!! ہماری آبادی کے چاروں طرف خشکی اور قحط ہے۔تمام جاندار یا تو فنا کے گھاٹ اتر گئے یا کہیں دور ہجرت۔"

دربار میں گہری خاموشی چھا گئی۔ملکہ نے دوسرے کھوجیوں کی طرف نگاہیں گھمائیں ۔ دو اور کھوجیوں نے نفی میں سر ہلائے ۔آخری سراغ رساں نے ایک دوسرے کے طرف دیکھا اور ملکہ سے اجازت چاہی ۔

"عظیم ملکہ اور باہمت ساتھیوں! ہم نہ تو خود جاسکے مگر دوسری آبادیوں کو ہجرت کرتے دیکھا ہے ان کے قافلے ایک مثالی ریاست نئے"خیابان" کی جناب رواں دواں دیکھا "بزرگ کھوجی نے لرزتی آواز میں کہا ۔

نسبتا جواں سراغ رساں جوش  سے بولا "ملکہ یہاں سے کچھ دور انسانی آبادی نے مدینہ جیسی ریاست بنانے کا دعوی کیا ہے ۔اور ہمارے اطراف کے سارے جانور دھیرے دھیرے وہاں جا رہے ہیں "ننھی حشرات الارض کا دربار بیک وقت عقیدت سے کھڑی ہو کر نعرہ زن ہوگیا "مدینہ مدینہ مدینہ" ملکہ کو ساتھیوں کو خاموش کرانے میں کچھ لمحے لگے۔

"یہاں روز عوام کو مرتے رکھتے سے بہتر ہے کہ امید لے کر سفر اختیار کریں" توقف کے بعد پرعزم فیصلہ کیا ۔

"سپہ سالار کوچ کی تیاری کریں۔ بیماروں، بزرگوں، بچوں کو درمیان میں جگہ دی جائے۔ راستہ بتانے والے جاسوس قطار میں سب سے آگے ہوں گے۔" ملکہ کی آواز دربار میں گونج رہی تھی۔

یوں مثل مدینہ ریاست کی سمت ایک قافلہ اور گامزن ہوا ۔

—————————

ادھر مثل مدینہ ریاست میں وزیران مشیران کی میٹنگ شروع ہوا چاہتی۔ شفاف شیشے کے دروازے دربان بار بار کھولتے اور صاحبان کو سلام جھاڑتے ۔

غیر ملکی سوٹ میں ملبوس اراکین کابینہ کی آمد  جاری تھی ۔وزیراعظم کی گاڑی نظر آتے ہی ایک نوجوان وزیر جوش سے چلایا " ہوشیار، خبردار چیف اگئے " اتنی زوردار آواز سے چھت کے کنارے چلتی چیونٹیوں کی قطار تھرا گئ اور بمشکل خود کو زمیں پر گرنے سے بچایا مگر جو دلیہ کے ذرے اٹھائے چل رہی تھیں ۔کیمرے میں داخل ہوئے عین وزیراعظم کے بالوں میں جا گرے۔اف! ساری محنت برباد ہو گئی اتنی چیخوں نے کمرے میں بھی کوئی ہلچل نہیں پبا کی۔ وزراء کی آوازیں بھن بھن کا شور پیدا کر رہی تھی۔

سیٹ پر بیٹھتے ہی لائق فائق وزیر خزانہ سے رپورٹ طلب کی ۔ساتھ ہی حکم صادر کیا "کہ ہر صورت میں بجٹ پاس ہونا چاہیے اگر نہ ہوا تو ہمیں بےعزتی اٹھانی ہوگی شاید کسی کے گھر جانا پڑے" دھمکی بھی جڑ دی ۔ گردشی قرضے ،سرمایہ، آئی ایم ایف ،نئے ٹیکس بالواسطہ مہنگائی کئی گھنٹوں تک بحث جاری رہی۔

"بجٹ سے مہنگائی میں اضافہ کیسے کم کیا جائے ؟"نئےنئے وزیر کا جوش دیکھنے کے قابل تھا۔

جلدباز وزیر اطلاعات نے مائیک سنبھال لیا:"سر  اصل چیلنج مہنگائی کم کرنا نہیں کم ثابت کرنا  ہے۔"

" سر مہنگائی تو ایک مفروضہ ہےجوسائنسدان مکمل طور پر رد کر چکے ہیں۔" وزیر سائنس اپنا منہ کھولا۔

"سر اولا مہنگائی تو گذشتہ حکومت کی وجہ سے ہے غیر ملکی کمپنیوں کو چھوٹ دی گئی ہے ہے کہ وہ جہاں جہاں چاہے آزادانہ سرمایہ لگا کر قبضہ کرلے" ان کا منہ ہر گز بند نہ ہوتا اگر وزیراعظم کی نگاہ ان پر نہ جم جاتی۔

" سر بجٹ پاس کروانے کے تین نکات ہیں ہیں مہنگائی کا تاثر ختم ہوسکتا ہے۔"خوشامدی ڈاکٹر گویا ہوئے "ایک سرے سے  مکر جانا کہ مہنگائی ہے۔ دنیا کے دوسرے ملکوں سے موازنہ بالآخر ثابت کرنا" ۔

بڑ بڑ  وزیر داخلہ نے بات اچک لی۔ " گذشتہ حکومت پرملبہ گرا دینا اور اپنی سادگی کفایت شعاری کے قصے گھڑنا  سب سے اہم حزب مخالف کے ارکان کو خریدنے کی کوشش کرنا۔"

 ان کو چپ کرانا آسان نہیں تھا مگر قوانین کائنات  میں اچانک مونو سیکنڈ کے لئے ایک تبدیلی رونما ہوئی انسانی کانوں کی حد سماعت ختم کر دی گئ تو سسکیوں اور" رحم مالک مالک" کی باریک آوازوں نے ہائی پروفائل شخصیات کو آرام دہ نشستوں پر چونکا دیا سارے وزراء ایک دوسرے  کو گھورنے لگے۔

وزیراعظم نے مشکوک انداز میں میز کے نیچے جھانکا چمکتے فرش میں اپنی شبیہ نظر آئی آئی تو سر اونچا کرکے غرائے "کون ہے؟"

بند دروازوں کے باہر کھڑے دربان بھی الرٹ ہوگئے ۔

"سر شاید باہر سے آواز آئی ہے۔"

"سر اخبار والے بڑے فسادی ہیں ہر وقت حکومت کی بدحواسیاں نوٹ کرتے رہتے ہیں۔" مختلف آوازیں کمرے ابھریں۔

وزیر قانون نے فورا صفائی کا عملا طلب کرلیا جوں ہی انہیں چھت پر  قطار میں چیونٹیاں نظر آئیں۔

اتنے میں وزیر اعظم کے سیکرٹری نے اس دن کا باقی شیڈیول دوہرایا  جس کے مطابق سیلون کا وقت ہوا چاہتا تھا۔جس طرح ان کے بالوں میں گرے دلیے کے ذرے کوڑے کے ڈبے میں پہنچ گئے ادھر کابینہ کے کمرے میں حشرات الارض چرمر ہو کر مدینہ کی فضاؤں میں بکھر گئے۔

یوں دو ریاستوں کے پارلیمانی قصے بیان ہوئے مگر دونوں میں آغاز سے انجام تک انتہائی تضاد ہے ۔کسی بھی کردار و واقعات کی مماثلت محض فرضی اور اتفاقی ہے اور ناچیز کسی ناخوشگوار صورتحال سے بری الذمہ ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نگہت یاسمین


پیر، 12 جولائی، 2021

فرد جرم

                                                                                  فرد  جرم

                                                                 سلمی  نے سر اٹھا کرایک نظر بوسیدہ چھت کی طرف دیکھا جہاں ننھے ننھے سوراخوں سے دھوپ خیمہ میں چاروں جانب پھیل چکی تھی۔پھر آھستہ سے ٹاٹ کا پردہ ھٹا کرباہر جھانکا تاحدنگاہ ریت ہی ریت چمک رہی تھی۔ کہیں کہیں زیتون کی جھا ڑیاں برگ وبار کے بغیر مرجھائی کھڑی تھیں۔صحرا میں دور تک ا پنی ہی زمین پر پناہ گزینوں کے بد رنگ خیموں کی قطاریں غیر انسانی ماحول میں کیکٹس کی مانند سر اٹھا ئے ہوئے آسمان سے آگ برساتے سورج کو رحم طلب نظروں سے تک رہی تھیں۔ کچھ فرلانگ کے فاصلے پر خاردار تاروں کے پیچھے اسرائیلی سپاہی چوکی میں بیٹھا دور بین لگائے نگرانی پر،مامور بیزاری سے ریت کے ذروں کو گھور رہاتھا کہ اقوام متحدہ کے ھیومن ریسورس شعبہ کا جنرل  ہیرس چوکی میں داخل ہوا۔درشت اسرائیلی فوجی افسران کی مقابلے میں یہ کرنل سنتری کو خاصا ڈھیلا محسوس ہو تھا اس نے ھلکا سا سیلوٹ مار کر بے دلی سے دور بین ھیرس کی جانب بڑ ھاد ی۔

 گرم ہوا میں بچوں کی آوازیں گونج رھی تھی۔سلمی نے آنکھوں کے آگے ہاتھوں کا چھجا  بنا کر ٹیلے کے اطراف کھیلتے بچوں میں سالم کو تلاش  میں نظریں دو ڑا ئیں کہ اچا نک ایک سیٹی کی آ وا ز پر نشا نہ بازی کے کھیل میں مشغول بچے منتشر ہو نے لگے۔ٹیلے کے پیچھے سے نمو دار ہو نے وا لے لڑ کوں میں سا لم نما یا ں تھا۔ قریب آ کر ساتھیو ں کو الودا عی سلام کیا اور ما ں سے لپٹ کر خیمے میں دا خل ہو گیا۔نو عمر لڑ کے کا پر دہ ھٹا کر خیمو ں کو لو ٹتے ہو ئے سا تھیو ں سے بات کر نے کا منظر اور پس منظر میں کھڑی ماں نے ہیرس کی تو جہ کھینچ لی۔ صحرا کی دھو پ ریت کے ذرو ں کو سو نا بنارہی تھی۔ انتہا ئی طا قتور دور بین سے ان بے خا نما ں انسا نو ں کے چہرے ہا تھ برا بر فا صلے پر محسوس ہو ئے۔ ماں کا چہرہ، چہرے کے نقوش جنرل کی یا د داشت پر دستک دینے لگے۔

    ” ان پنا ہ گزینو ں سے ملا قات کر نی ہے!....“ اس کی حسیا ت بیدا ر ہو چکی تھی

تھو ڑی دیر بعد چوکی پر سالم اور سلمٰی مو جود تھے۔ سالم لا پر وا ہی سے اپنے ہا تھ میں پتھر کی گیند گھما رہا تھا۔ کبھی ایک ہا تھ سے اچھا لتا اور دوسرے میں منتقل کر تا۔ مگر سلمٰی دروا زے کے نز دیک نگا ہیں جھکا ئے بالکل ساکت دیر تک اپنے قد مو ں کو دیکھتی رہی۔ آ نکھو ں کی پتلیا ں بھی ٹھہری ہوئی، لب ایک دوسرے پرسختی سے جمے ہوئے! بے حد معمولی، خستہ لباس پہنے مگر پورے وقار کے ساتھ ایستادہ تھی                                                                 .  

”کس قدر بے نیا زی ہے؟ زندگی کی تمام بنیادی ضرو ریات سے محرومی کے با وجود کو ئی صدائے احتجاج نہیں! اس در جہ خا موشی؟؟“

”.......خوف اور اندیشو ں سے کو سو ں دور۔۔ان کے پا س ہے ہی کیا جسے کھو نے کا وہم ہو! شا ید ایسی ہی کسی عورت نے شیخ یا سین کو جنم دیا ہو گا .........“ جنرل سو چتا چلا گیا۔

   با لآ خر کئی با ر پلکیں جھپکا نے کے بعد وہ گویا ہو ئی   ”.....یہا ں کیو ں بلا یا ہے؟“

 ”. ....تم دور سے گلاب لگ رہی تھیں ......سونگھنے کے لئے..“ سنتری نے استہزائی لقمہ دیا مگر جنرل کے مڑنے اور غضبنا ک نگا ہوں کے سبب پورا نہ ہو سکا۔ جنرل نے اسے ہا تھ سے باہر جا نے کا اشا رہ کیا تو وہ بڑ بڑاتا ہوا نکل گیا اور جنرل نے جھنجھلا کر عرق شدہ پیشا نی پونچھی۔

 ایک  طرف سلمٰی کی لا تعلقی، خا موشی اور دوسری طرف سنتری کا گندہ  مذاق!

  ”....میں نے نا حق بلوا یا! ..........مگر یہ عورتیں اتنی مختلف کیو ں ہیں؟...“

   اسے ان گنت عورتیں یا د آ ئیں  لیلٰی، الزبتھ،اینا، شیری،جو لی،جینا، میری، ماریہ، ڈیا نا، ویرا، بار برا، ایمی، سو ہا، ڈیمی............

بیروت کے کلبو ں میں نا چتی تھرکتی، پیرس کی سڑ کو ں پر، با زا رو ں میں دل بہلا تی، گناہ پر آ ما دہ کر تی، کھلونا بنی، سجی سجائی،تر غیب دیتی، جنس ارزاں کے طور پر ہر جگہ عزت لٹا تی، نیو یا رک، کیلیفورنیا، ہا لی وڈ! سکون کی تلاش میں زندگی کے مزے لو ٹتی، جوا نی کا لطف انگیز کر تی، جبلتوں کو عریا ں  کر تی ،۔۔۔ان دو قسم کی عورتو ں کے درمیان قطبین جتنا بعد کیو ں؟؟

   اچانک اسے اپنی ما ں یا د آ ئی جو اسے پیدا ئش پر بیروت کے ہسپتال میں امریکی فوجیو ں کے قیا م کی یا د گا ر کے طور پر چھو ڑ گئی تھی۔ کلیسا کے یتیم خا نے میں اس کی پر ورش ہو ئی۔ دس برس کی عمر میں لبنا ن سے امریکہ ایک لا ولد جو ڑے نے پہنچادیا۔ اس کی ماں کو ن تھی؟ کہا ں گئی؟ وہ نہیں جا نتا تھا۔ یو ں ہی بھٹکتے ہو ئے وہ لا شعو ری طو ر پر مشرق و سطٰی کے سلگتے ہو ئے خطے میں بار بار آ جا تا تھا، شا ید ما ں کی تلا ش میں!پچا س سال کی عمر میں بھی ماں کے لمس کو ڈھو نڈتا!!                                                                                                                                        اسے سالم کی آ وا ز نے چو نکا دیاجو ما ں کو جھنجھو ڑ رہا تھا۔ تذبذب کے عا لم میں جنرل نے سوا ل کی ”......تم سارہ کی بہن یا .....بیٹی ہو؟؟....“ سلمٰی کے چہرے کے تا ثرا ت بدلتے دیکھ کر جنرل کو اس کے شنا سا چہرہ کا سبب معلوم ہو گیا 

    ”....میری خا لہ تھی.....تم وا قف ہو؟“  سوالیہ نظریں سلمٰی نے اٹھا ئیں

   ”..تھی؟ ...تو کیا؟؟........“ جنرل کا جملہ ادھو را رہ گیا

   ”ہا ں وہ آ زا دی کی خا طر جا ن ہا ر گئی.....“ وہ عجیب سے انداز سے مسکرا ئی

   ”مگر کب؟ کیسے؟ “ جنرل کا اضطراب چھلک اٹھا

   ”....کیا مطلب؟؟؟ تم سمجھتے ہو کہ ہم کیمپو ں میں پکنک منا رہے ہیں؟؟ یہاں نہتے مرد، عورتیں  اور بچے بھی اسرا ئیلی جا ر حیت کے آ گے سینہ سپر ہیں۔ ار ض فلسطین تو سا ٹھ سال سے حا لت جنگ میں ہے .......“ ملا متی لہجہ جنرل کا منہ چڑا نے لگا اور وہ سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔

   ”....وہ ایک گو ریلا لڑا کا تھی! دشمن کو مطلوب! پھر ایک محا صرہ ہوا۔ سا مان خورد و نو ش بند، دوا ئیں طبی سہو لیا ت منقطع، اندھا دھند بمباری! وہ اور اس جیسے لا تعداد جان ہا ر گئے.....کب تک لڑ تی؟ اس کی آ واز بتد ریج مدھم ہو تی چلی گئی اور چا رو ں طرف ایک بے نام با ز گشت گو نج اٹھی۔۔۔۔۔”...کب تک لڑ تی؟ ......کب تک لڑ تی؟   کب تک؟...“

    ” ....سعاد؟ ....“ خالی الذھن جنرل نے کر سی تھا م لی

    ”.....سارہ اور سعاد آ سما نو ں پر بھی ساتھ ساتھ آ زا دیء وطن کی منتظر ہیں .....“

     جنرل کو اپنے کیریر کی شرو عا ت یا دآ ئیں۔ جنگ زدہ خطو ں میں فریقین کے مابین صلح بندی کر وا نا اور پھر عا رضی جنگ بندی کو بر قرار رکھنا، اقوام متحدہ کے بنیا دی مقا صد!! ...... کس قدر متا ئثرکن تھے!۔ عرب شیو خ کی با ہمی چپقلش نے ار ض مقد س کو مسئلہ میں تبدیل کر دیا۔ پھر امن فوج میں شمو لیت نے اسے لبنان پہنچا دیا۔ مسلمان، عیسا ئی اور دروز میں تقسیم! گو نا ئٹ کلب کی زندگی تو روا ں دوا ں تھی بلکہ پہلے سے بھی افزو ں تر مگر زیتو ن کے با غو ں میں ادا سی اتر آ ئی تھی۔ ستم رسیدہ فلسطینیو ں کے امڈ تے قا فلے سرا پا سوا ل تھے اپنے عیاش حکمرا نو ں سے!

  اس کی اولین پو سٹنگ بیروت کے گرد و نوا ح میں ہو ئی۔ اسے تو اپنی ماں کی کشش وہا ں لے گئی تھی۔ فا رغ اوقا ت میں ہر عورت کے چہرے کو ٹٹولتا، اس کے نقوش اپنے خد و خال سے ملا تا! یہیں پر سا رہ اور سعاد دونو ں بہنو ں سے سا منا ہوا۔ تحریک آ زا دی ء فلسطین کی سر فرو ش! سعاد تو مارے نفرت کے اس سے بات تک کر نا پسند نہ کر تی مگر سارہ جس کی آ نکھو ں میں شرارے نا چتے تھے بری طرح الجھتی۔ اپنی شادی کی رات بیوہ ہو جانے وا لی عورت...اسے حیرت ہو تی کہ غم میں ڈوب جا نے کے بجا ئے اپنے وطن کی با زیا بی کا نعرہ لگا تی تھی۔ اس نے سو چا ایسی ہی کوئی عورت ماں کی یا د بھلا سکتی ہے ...مگر یہ بات کہنے میں دونو ں کے درمیان مذا ہب کے علا وہ بھی بہت کچھ مانع تھا زندگی کے تضا دات نے اسے ضرور لا دین بنا دیا مگر سارہ تو مو منہ ہی تھی۔

     اور پھر صا برہ اور شتیلہ کے  کیمپ 1982  .....بمباری سے لرزہ خیز قتل عا م کی یا د نے اسے آج بر سو ں بعد بھی رلا دیا۔ظلم بڑ ھتا ہے تو مٹ جا تا ہے مگر بیت المقدس کے تا خت و تا راج سے جبری بے دخلی تک اور قبضہ سے  غزہ، رفا ہ کے محا صرے تک، 1948 سے 2010تک ظلم مسلسل بڑ ھتا گیا۔ اقوا م متحدہ، امن فوج، بین الاقوا می ثا لثین، امن معا ہدے، آ زاد ذرا ئع ابلا غ در پر دہ ظلم و منا فقت کے سا جھے دا ر تھے۔ نقشہء امن کی صورت گری  محض خواب و خیال ہے!  

”  تم جو چاہو .....تو تمہاری رہا ئش کا بندوبست ......پیرس یا یو رپ کے کسی شہر میں ہو سکتا ہے .......“  جنرل نے رک رک کر بد قت تمام اپنی بات مکمل کی۔ سلمٰی نے نگا ہیں اٹھا کر جن نظرو ں سے اسے دیکھا جواب کا بخو بی اندا زہ ہو گیا! اس کا لہجہ خنجر اور الفا ظ گو یا تلوار تھے ”.....یورپ جہا ں بوسنیا ہے؟؟، وہی یو رپ جس نے نا م کی مسلمان آ با دی کو خاک و خون میں رنگ کر نسلی تطہیر کے فلسفے کو عملا ثا بت کر دیا ہے.....“

”  بوسنیا! ...“ جنرل چو نک گیا  ”....تو کیا وہ جا نتی ہے کہ اقوام متحدہ کی امن فوج نے بوسنیا میں کیا کیا؟؟اس کا منہ کھل گیا                                  ”  ہم بیروت، اردن، عمان، عقبہ میں تین چار نسلو ں سے پناہ گزین ہیں! ہم صحرا کی ما ئیں ہیں! ہم مجا ہدو ں، شہیدو ں کو جنم دیتے رہیں      گے۔ ریت کے ذرو ں کی ما نند ہماری مامتا سے تمہا ری آ نکھیں خیرہ ہو جا ئیں گی    ...“ سلمی کا قہقہہ گو نجا اور پھر ہو نٹ بھنچ گئے۔ سا لم حیرت زدہ سا ماں کو دیکھے گیا۔ دو نو ں جا نے کس لمحے گئے کہ اس کو احسا س بھی نہ ہوا یا پھر وہ کہیں دور پہنچ گیا تھا۔                                                                                              1992کا مو سم بہار! بو سنیا، مر غزا رو ں کا مسکن، حسین نظا رو ں کا وطن، فطرت سے مز ین!      کیمپ ہی کیمپ! دور تک خیمے ہی خیمے! پنا ہ گزین آ بادی کے لیے! ہر جگہ یہی ایک منظر تھا اور پس منظر بھی یکسا ں تھا۔ مسلما ن آ با دی کا غیر مسلمو ں سے تنا زعہ! اپنے ہی وطن میں کیمپو ں میں رہنے پر مجبور! ہر وقت جنو نی سر بو ں کے حملو ں کی زد میں رہتے۔کمیو نزم کی بسا ط لپٹنے کی سزا افغا نستا ن  سے لے کر یو گو سلا ویہ سا بق تک مسلما نو ں کے حصے میں آ ئی۔ ایک معمو لی سے زمین کے ٹکڑے پر بھی دعوٰ ی قبول نہ تھا! حکام بالا کی ھدایات کے عین مطابق سربوں کے حملہ ٓاور قافلوں کی نقل وحرکت پر صرف نظر رکھنا تھی جنونیوں کو روکنا یا ان کی خبر دینا ممنوع تھا۔ کیسا سیدھا سادا قتل عام تھاامن کا!انسانیت کا! تو پھر امن فوج نے بوسنیا میں کیا کیا؟؟ محض سربوں کو حفاظتی حصار فراھم کیا۔اور وہ بھی تو اس جرم میں شریک تھا جبھی تو بوسنیا کے نام  پر وہ بری طرح چونکا۔

          ہیرس جو بغیر کسی سفا رش کے لڑھکتاہو اکرنل کے عہدے تک جاپہنچا تھا،یوگو سلا ویہ میں چھڑی جنگ بلقان میں امدا دی کا رروا ئیو ں میں حصہ لیتے ہوئے ایک شام پہا ڑی سے جو لڑ ھکا تو ایک ضعیف عو رت کے قد مو ں میں جارکا۔...را ئفل سے سیدھے اس کے دل کا نشا نہ لیے ہو ئے! بین الاقوامی ادارہ کی جا نبداری نے مظلوم لو گو ں کے دلو ں میں آتش بپا کر رکھی تھی۔ سو اقوام متحدہ کو کافی جا نی نقصان اٹھا ناپڑا تھا۔ اسے بھی اپنا انجا م صاف نظر آ رہا تھا کہ اس نے کچھ مانگا بھی نہیں کتنی دیر تک وہ بے حس و حر کت پڑا رہا۔ مگر پیچھے سے آ تی آ واز نے اسے چو نکا دیا۔ضعیفہ نے بڑھ کر آوا ز دی                                                                                                                                 

         ” نر مین!..“   اپنے نام کی طرح نرم و نا زک،ملیح چہرہ جس پر سے نظر ہٹا نادل کے بس میں نہیں معلوم ہو تا تھا،مگر گہری اداسی نے جس پر ڈیرے ڈا لے ہو ئے تھے۔۔ وہ واقعی گلاب تھی! اس سے زیا دہ کچھ کہنا حد ادب سے تجا وز تھا۔ قریب پہنچ کر نرمیں کا اداس چہرہ اس کی وردی اور رینک دیکھ کر متغیر ہو گیا۔ اپنی گود سے ننھا بچہ ضعیفہ کوپکڑا دیا۔

    ” نانی! ایک کو مار کر کیا ہو گا؟ پوری بٹا لین، پوری رجمنٹ... “ وہ دونوں  ہاتھوں سے چہرہ ڈھانپ کر بلک پڑی۔                      

” مگر اسے بتا دو کہ اس بچے کا نام صلاح الدین ہے جو پورے یورپ کے عیسائیوں اور اس کے سرب باپ کے لئے ایک ڈراؤنا خواب ہے۔جس نے مجھے نینی سے نرمین ہاشمی بنادیا.......“  اور غم و غصے سے چور سلیمہ نا نی نے وہ تلخ حقیقت کیا بیان کی گو یا اس پر فرد جرم عا ئد کر دی ۔ ارد گرد ماحول کی خوبصورتی، فطرت کا حسن جہنم زار میں     بدل گیا۔ 

 ”...زما نو ں سے ساتھ رہتے ہم تو محض نام کے مسلما ن تھے اور اس کی شا دی تو یقینا کسی سرب سے ہی ہو تی مگر مسلمان عورتو ں کو علیحدہ کر کے جبرابے عزتی کی منصوبہ بندی کر نا اور اس فوج کا مکروہ کر دار! جنو نی سر بیو ں کو تحفظ دینا .......“

   ”...تم نے ہمیں برف کی مائیں بنا دیا ...یخ بستہ، ٹھٹھرا دینے وا لی! ہمارے جذ بات، خوا ہشات منجمد ہو گئے ...“ نر مین کا لہو جمادینے والا لہجہ موسم بہار کی خنک ہوا میں اس کو کپکپا گیا۔ وہ صاف شفاف آ نکھو ں میں اپنے لیے نفرت اور انتقام بخو بی دیکھ سکتا تھا۔ اس کے سینے میں درد کی لہر اٹھی اس نے بھی تو سرب درندو ں کو تحفظ اور مدد فرا ہم کی تھی ......سو ایک ظالم اور مظلوم کے درمیان نفرت اور انتقام کے سوا کیا رشتہ ہو سکتا ہے.ظلم کی معاونت میں شرکت کے احساس نے اسے زندہ درگور کر رکھا تھا۔ اندر ہی اندر ایک عدا لت ہر لحظہ قا ئم ہو تی!!  ایک    غا صب اور محروم کے بیچ بجز دشمنی کچھ بھی مشترک نہیں!!  اس کا سانس پھول گیا مگر نر مین اپنے صلاح الدین کو سینے سے لگا ئے پا مر دی سے آ نکھیں بند کیے کھڑی تھی۔ اس نے چا ہا کہ نرمین اس کا گریبا ن پکڑ لے،اپنے دل کی بھڑا س نکا لے، چیخے چلائے اور اپنے اوپر ہو نے والے ظلم کی دہا ئی دے، بلکہ اسے جان سے مار دے مگر اس نے اپنے تمام جذ با ت اپنے بچے میں منتقل کر دیے تھے۔ صلاح الدین کا نا م ہی تمہیں سہما دے گا!!!

    جب وہ پیرس وا پس لوٹا تو بے حد بکھرا ہوا تھا ۔خاموش! خود کو پھر سے کتا بو ں میں گم کر لیا مگر اس کے اندر جنگ کے شعلے بھڑکتے رہتے۔ نفسیات کے علوم میں ڈ گری کے بعد ہیو من ریسورس ڈیپا رٹمنٹ میں تبا دلہ بآسا نی ہو گیا۔ اس ادارے کا  بظا ہرمقصدجنگ کے اثرات یعنی انسا نی المیو ں سے جنم لیتے نفسیاتی مسا ئل کا جا ئزہ لینا، رپو رٹ بنا نا، نفسیا تی مریضو ں کے تنا سب سے معا  لجین اور سہو لیات کا تعین کر نا،انسا نی ہمدر دی کی بنیا دو ں پر خیمہ بستیا ں قا ئم کر نا، جسم و جان کا رشتہ بر قرا ر رکھنے کے لیے کھا نے، ادویات، سہو لیا ت کی فرا ہمی و غیرہ تھی مگردر پر دہ مسئلہ جوں کا توں رہنے دینا، جا رح اور غا صب قو م کا پلہ بھا ری رہنے دینا۔یو ں انصاف کی دھجیا ں بکھیر تا عا لمی ادارہ اپنے قیام کا جوا ز ثا بت کر تا۔ اسے تو اپنی پیدا ئش کا جواز ہی سمجھ میں نہیں آ تا تھا۔ امن فوج کی کار کر دگی کیو ں کر سمجھ میں آ تی؟؟؟  مقبو ضہ فلسطین میں اسرائیلی سر حدو ں کے ساتھ ساتھ بے پناہ شکا یات ملنے پر بین الاقوامی دبا ؤ کاسا منا تھا۔ چنا نچہ کر نل ہیرس کو بطور نمائندہ جا ئزہ لینے جا ناپڑا۔فلسطینی آ بادی  میں اضافہ، ناگفتہ بہ سہو لیات کی وجہ سے بدلتے ہوئے سماجی رویے کی نشا ن دہی، بڑ ھتے ہو ئے نفسیا تی امرا ض نے اسے تشویش میں مبتلا کر دیا۔ وا پسی کا سفر سوچو ں میں کٹا۔

    ”  ظلم کے خلاف آ واز، جبر کے آ گے سینہ سپر! یہ تحریک مزا حمت ہم ما ؤں کے دم سے ہے!! اپنے جوان اور نو عمر بچو ں کو اسرائیلی ٹینکو ں کے سا منے کھڑا کر نا آ سان نہیں ہے۔ بلکہ اس سے بڑ ھ کر اسرا ئیلی جیلو ں میں نا قا بل بیا ن تشدد، تعذیب کا شکار مائیں، عور تیں مزا حمت کی تا ریخ اپنے خون، عز ت،جان سے رقم کر رہی ہیں اس کا تصور بھی محال ہے اور تمہاری رسا ئی بھی وہاں تک نہیں ممکن........‘‘سلمٰی کی آ واز آ سما نو ں سے گونج رہی تھی کہ ال ایل کی ائر ہو سٹس نے گرم کا فی کی پیالی سامنے رکھدی۔     

                          ” سا ری ماؤ ں نے اس کو ملزمو ں کے کٹہرے میں لا کھڑا کر دیا؟؟؟وہ تو ان پر ظلم کا ذمہ دار نہیں!!.......“ ”....مگر ظلم کی پرد ہ پو شی،حمایت بھی ظلم کا حصہ ہے......“ اس کے دل میں کسی نے سر گو شی کی          

”.....جس نے مجھے نینی سے نر مین ہاشمی بنادیا  .....“ اداس لہجہ رو ح میں اتر گیا۔ وہ اپنے اندر بر سو ں سے جا ری بحث سے تنگ آ گیا تھا۔ اس کانا م تو کبھی بھی جنگی جرا ئم میں ملو ث افراد کی فہرست میں نہیں شا مل رہا مگر وہ ایک نادیدہ سزا کاٹ رہا تھا۔ اسے اپنے صدر دفتر آ ئے ہو ئے دو ہفتے ہو چکے تھے۔

 اس کے ذہن میں بار بار وقتا فوقتا یہ مائیں نمو دار ہو تیں دائرہ کی صو رت میں ”ہم صحرا کی ما ئیں ہیں .........ہم برف زا رو ں کی مائیں ہیں ......“ گنگناتی، سیا ہ  ماتمی لب اس میں اپنے پا ؤ ں زمین پر ہلکے سے ما رتی!  اس نے خود کو بہلا نے کے کتنے جتن کیے مگر بے سود!! اسی کو شش میں اس نے شا م ہسپتال کے پا رک میں گزا ری۔ ننھے ننھے بچے اپنی بیما رما ؤ ں کے گرد کھیلتے کھیلتے دور نکل جا تے پھر آ کر ماؤ ں کے اطراف چکر لگا تے، ماؤ ں کا پیار لیتے۔

                                       اگلی صبح وہ ڈاک دیکھ رہا تھا کہ وا دی کشمیر سے آ ئے ایک خط نے اس کے اندر سلگتی ہو ئی چنگا ری کو ہوا دے دی۔ سری نگر کے نوا ح سے زیتو ن بیگم اپنے ذہنی معذور بیٹے کی بھا رتی افواج کے ہا تھو ں  اغوا اور پھر شہا دت کی تحقیقات کے لیے در خواست دی تھی ۔1948 سے وادی کشمیر حا لت جنگ میں ہے!!  ”کہسا رو ں کی مائیں ...“   ”اف!! ..“ اس کا سر بری طرح دکھنے لگا۔اس کی معا ون کشمیری نژاد ڈ اکٹر شیری اور ڈا کٹر زینت نے اس کے آ گے انسانی حقوق کی پا ئمالی کی رپو رٹ رکھ دی۔   ”دنیا کے کونے کونے میں موجود ما ؤ ں کو ذلیل و رسوا کر کے کس قسم کا امن متو قع ہے؟؟...“

 پھر اس نے قبل از وقت ریٹائرمنٹ کا اعلان کرکے سبھی ساتھیوں کو حیرت میں ڈال دیا۔کانفرنس ہال میں دنیا بھر سے پریس نمائندے جمع تھے۔      مشہور خبر رساں ایجنسی کا رپورٹرنے سوال کیا گویا اسے چھیڑا،،اب آپ کیریر کے اختتام پر زندگی کا آغاز کریں گے،، پورا ہال قہقوں سے گونج اٹھا۔ باون سال کی عمر کیا ہے!عیش عشرت کی کیا کمی ہے آ  پ کے لیے!!لیکن وہ تو کسی اور ہی دھن میں تھا؟؟خود کلا می سے انداز میں بول پڑا،

   ”  میرا تمام کیریران ماؤ ں پر قر بان!!!“   بو ڑ ھا جنرل دھا ڑیں مار مار کر رو نے لگا۔        ”....اے عزم و ہمت کے پیکرو ں! صبر و استقا مت کی تصویرو ں!اے حیا دار تہذیب کے گہوا رو ں! اے امت مسلمہ کی ماؤ ں! تمہیں سلام!!

 فلسطین سے کشمیر تک، بوسنیا سے عراق افغا نستان تک مسلمان ماں بری طرح لہو لہان ہے مگر اپنی مامتا، وقار کو قو می، ملی سلامتی پر غالب نہیں آ نے دیتی! جذ بو ں کو سرد نہیں ہو نے دیتی! بے دریغ قر با نیا ں دیے چلی جا رہی ہے اپنے بیٹو ں، بھا ئیو ں   اور عصمتو ں کی .....!!!“

   ”آج یو م مادر مہر بان پورے کرہ ارض پر تزک و احتشام سے منا یا جا رہا ہے مگر مجھے مغرب کے نما یاں تر ین فرد کو اپنی ماں کا علم نہیں! ہم نے اپنے سماج سے ماں کو ختم کر دیا۔ ایک جھولے سے اٹھا یا گیا بچہ جسے ایک لا ولد جوڑے نے گود لے لیا....  "

 اگلی صبح کے اخبارات میں ایک کالمی خبر تھی     ” اقوا م متحدہ کے human resource department کے جنرل ہیرس اپنی ریٹا ئر منٹ کے مو قع پر ذہنی توازن کھو بیٹھے۔ نیو یا رک کے نفسیاتی ہسپتال منتقل۔ جہاں ان کا علاج دو پا کستانی نژاد ڈاکٹرز کر رہی ہیں ...“


نگہت یاسمین

پیر، 6 اگست، 2018

چاند اور چناؤ


                                                                

            یوں لگا جیسے کسی نے اس کا کندھا ہلا یا مندی ہوئی آنکھوں کے ساتھ سر تکیہ سے اٹھایا اور ذہن پر زور ڈالا۔   کچھ یاد نہ آیا ہر سو اندھیرا تھا۔ اچانک کھڑکی سے آتی چاندنی میں کمرہ جگمگاگیا۔ رات کے پچھلے پہر چاند بادلوں سے آنکھ مچولی کھیل رہا تھا۔ اس نے بستر سے اترنے کا سوچا ،پھر کروٹ لیکر بے خبر سوتے  عثمان کو دیکھا ۔دن میں سرکاری ملازمت ,اور رات میں قریبی  چھاپہ خانہ میں روزگار کی مشقت ،جو کبھی کم اور کبھی زیادہ ہو جاتی ۔ دونوں صورتوں میں مشکل، چھپائی کا کام سست ہوتا تو اجرت بھی مختصر ملتی،کام بڑھتا تو تھکن بھی سود کی مانند چڑھ جاتی۔


                              ہما  کو اپنا  بچپن کا  آنگن والا پرانا گھر یاد آیا جہاں بیرونی دیواریں چھوٹی مگر صحن  میں چارپائیاں لگا کر سونے کا رواج تھا۔ ایک پلنگ پر وہ دادی کے ساتھ سوتی اور دوسری پر دونوں بھائیوں ثاقب اور شکیب کو لٹایا جاتا ۔اس چھوٹے سے آنگن میں پورا چاند ہر بچہ کے پاس آتا کتنی دیر تک وہ اپنے اپنے چاند سے باتیں کرتے " چندا ماموں دور کے " آہستہ آہستہ بوجھل آنکھیں  ہوتی۔،دادی کی تھپکیاں اور کبھی جھڑکیاں سیدھی کروٹ کرکےنیند کی وادی میں پہنچادیتی ۔اس نے آہستہ سے پیر زمیں پر ٹکائے اور بیٹھ گئی۔
               چاند بادلوں سے پھر جھانک رہا تھا۔ اسے لگا کہ مسکرارہا ہے اس کے ساتھ شریک ہے۔بچپن کی یادیں تازہ کرنے  بلارہا ہے۔ " آ ؤ اس سے بہتر کوئی موقع نہیں " وہ کتنی ہلکی پھلکی ہو گئی تھی اس سمے ،دل کے آسمان پربچپن جو طلوع ہوا تھا،معصومیت اور سچائی کا  دل  فریب  موسم ۔ ۔                                                                                                                                                                                                                                                      
                     چندا ما موں کی بانہوں میں بانہیں ڈالے لڑکپن کے دور میں پہنچ گئی۔سرکاری بنگلہ کی جافریوں والا برآمدہ اور مستطیل آنگن ۔نواڑ کے چوڑے پلنگ پر لیٹ کر چاند کو دیر تک تکنا۔پھر آنکھوں آنکھوں میں اس باتیں کرناکتنا سحر انگیز شغل تھا۔ بیلا اور رات کی رانی کی خوشبو،جھینگرکی مسلسل آوازیں رات کا  پیچھا کرتی  رہتی۔آدھی رات کو نیند  سے اٹھ کر کمروں میں لگے بستر پر ڈھیر ہوجانا۔                                                                                                                       

                    پھر کالج  میں داخلہ اور پڑھائی میں اسے خبر ہی نہ ہوئی کہ زمین وآسمان پر سورج اور چاند بھی طلوع ہوتے ہیں ۔  کتنی ہی شرارتیں اسے آج تک یاد تھیں مگرچاند کا ذکر  کسی واقعہ میں نہیں شامل  رہا ،شاید کسی اور کوچہ میں  بچوں کے بالوں سے اٹکھیلیاں کرتا رہا ہوگا۔  اسے لگا کہ ان دو سالوں میں  وہ بہت مصروف رہی   جو بچپن کے ساتھی  کو یوں نظر انداز کیا۔تھوڑی ندامت ہوئی  تو سر جھکا لیا۔  "اے  بات سنو ادھر دیکھو  " اس کی نگاہ بادلوں میں چھپتے چاند سے ملی۔" تم خود جو چاند بن گئی تھیں   " ہوا کے دوش پر  اڑتے بادل نے  تان لگائی۔
                        جامعہ میں گذارے  ماہ وسال اس کی یاد داشت  کی زمین میں سنگ میل کی مانند گڑے تھے۔جب وہ کہیں نہیں تھی بس ایک تحریک تھی جو ہر سو برپا تھی اور وہ اس تحریک کا حصہ تھی ،ایک نظم کا جزو تھی۔ایک جذبہ تھا  جو لہو بن کر رگوں میں دوڑتا تھا  ایک جنون تھا جو سر چڑھ کر بولتا تھا ایک نظریہ تھا   لاالہ ۔۔۔اور  شرق و غرب پر اسے غالب کرنا  تھا  افغانستان میں روس کی شکست کے اثرات سمندر کو کنارے  شہر تک محسوس کیے جاسکتے تھے ۔ اس کی مٹھیاں بھینج  گئیں ۔
                      اف کیسا منظر!!!! صرف اس کی خواہش نہیں لاکھوں دیوانوں فرزانوں کی زندگی اور موت کا مسئلہ تھا ۔یقین تھا کہ فتح مبیں  سے ہمکنار ہونے والے ہیں پھر دیکھتے ہی دیکھتے بازی الٹ دی گئی اندھے کی آنکھوں نے اس کے گرد اس شہر کے رہنے والوں کے گرد آسمان تک دیوار چن ڈالی ،نفرت کی دیوار ۔۔۔ جس نے محلوں گلیوں علاقوں کو تقسیم کر دیا ،دلوں کو تقسیم در تقسیم اب شہر انسانوں کا ہجوم تھا  نہیں چوروں ڈاکؤں کا یا پھر موت بانٹے والے اہدافی  قاتلوں کا  اور جو اس تقسیم سے بچ رہے وہ مجبور تھے یا محصور  پھر سالوں نہیں تین دہائیاں بیت گئیں ۔قوموں کی زندگی میں تیس سال کوئی بڑی مدت نہیں مگر جب سفر زوال کا ہو تو تباہی کتنی  ہولناک ہوتی ہے ؟
                 چاند اب کچھ سست پڑ گیا تھا  آنگن آنگن جھانکتا ،سسکیاں اور سوگ اس کی راہ جو روک لیتے  ۔کٹھ پتلی شہر میں  بھری بس  اغوا کر کے اذیت ناک موت کی خبر اعصاب کا امتحان لیتی،کبھی بھڑکتی آگ میں انسانوں  کو بھونا جاتا ۔ شاید شہری زندگی کے     مسائل زیادہ تھے  یا سہولیات ایک طبقے کےلیے مخصوص  ۔ ناانصافی تمام مسائل کی جڑ آج بھی ہے کہیں پانی کے لئے قطار میں کھڑے انسانی ہیولے ، شناخت سے محروم ۔۔۔  رات کے سناٹے میں سسکی  نکل گئی ۔ عثمان نے تکیہ سے سر اٹھایا اور سوالیہ نظروں سے دیکھا  پھرہاتھ کے  اشارہ  سے سوجانے کو کہا اور  کروٹ بدل لی۔
اگلے دن کا آغاز حسب معمول  سرگرمیوں  سے ہوا۔ ناشتہ ، بھاگ دوڑ  شہاب اور سجاد کالج ہنستے کھیلتے  روانہ ہوئے عثمان  دفتر۔اس نے اپنی دیرینہ ساتھی پرانی ڈائری دراز سے نکالی۔مگرقلم چلتے  چلتے رک رہا تھا۔
                  "آنے والے دنوں میں انتخابات کا سوچ کر عجیب و غریب کیفیت طاری تھی۔ پھر ایک دوراہا اآگیا۔میں اتنی اجنبی کیوں ہوں ؟میری قوم ہمیشہ غلط فیصلہ کیوں  کرتی ہے؟؟ کوئی بھی تو اہل نہیں ،صادق نہیں امین بھی نہیں ان میں سے جو  حکمرانی کر چکے یا جو متبادل قیادت کے  طور پر پیش کیے جارہے ہیں سوائے ان کے جن کا منشور خدمت ہے۔ جن کا دامن کرپشن سے پاک ہے۔ خدا جانے ارد گرد رہتے بستے انسانوں کا ہجوم ایک بار پھر کسے منتخب کرے گا ؟"آوازوں کے اژدہام نے اسے گھیر لیا۔
                        شام ہوتے  ہی سب یک جا   ہوئے۔ دن بھر کی مصروفیات  سناتے  کتنا وقت بیت گیا۔ " کیوں نہ تھوڑی دیر آنگن میں بیٹھیں ؟  میز سے اٹھتے ہوئے عثمان  نے بے ساختہ  کہا۔سمندری ہوا کے جھونکے  فضا میں نمی گھول رہے تھے۔ چھوٹا سا صحن اپنے مکینوں  سے سج گیا تھا۔آج بھی چاند بادلوں کے سنگ  اڑا اڑا  جا رہا تھا۔ رات ڈھلنے میں دیر تھی اور  اس کا  دل وسوسوں   سے  چور ۔
ایسے میں  شہاب اور سجاد  نے   کہا " مجھے یوں لگا جیسے کسی نے میرا کندھا ہلایا ہو۔۔۔۔
اس کی اآنکھیں حیرت سے پھیل گئیں  اس کے دونوں چاند شرارت سے اسے دیکھ رہے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نگہت یاسمین


ہفتہ، 31 مارچ، 2018

آج کا دن

                                                          آج کا دن

            کانفرنس ہال میں خاموشی طاری تھی۔شرکاء کی آنکھیں سامنے دیوار پر لگی گھڑی پہ ٹکی تھیں کہ ایسے میں مسز اجمل نے میز سے کیلنڈر اٹھا کربلند کیا۔  ”حقوق ِخواتین کے سیمِنار اور دیگر پروگرام کا تفصیلی جائزہ مکمل۔“   دلآویز مسکراھٹ چہرے پر سجائی۔  ”یہ مہینہ ھم سب کے لئے انتہائی اھم ہے،اس کے نکات ............“    شزا نے ڈائری پر ہاتھ پھیرا۔  ۲۱بجتے ہی بے چینی پھیل گئی۔دوگھنٹے پلک جھپکتے گذرگئے۔   ”ہاں یاد آیا،میڈیا سے منسلک خواتین کی شرکت کو یقینی بنائیں۔“  کچھ نے گہر ی سا نس لی۔ جیسے بریفنگ میں سانس لینا منع تھا“ شزا نے ضروری کاغذات فائل سمیت بیگ میں رکھے۔اور نشست سے اٹھ کھڑی ہوئی۔ ”تمہاری سپیڈاچھّی ہے۔پروگرام کی جزئیات بھی دیکھ لینا“  وہ بالکل نزدیک آکربولیں، اس نے جوابی مسکراہٹ کے ساتھ اجازت چاہی۔                                                          
”آرہی ہو نا رعنا کی طرف! اپنی تیاری بھول گئیں“ انہوں نے بات آگے بڑھائی۔  ”اوہ‘‘   شزا ٹھٹک گئی، ا پنے گال پرہاتھ پھیر کر کھردرے پن کو محسوس کیا۔ بیگ کندھے پرلیا،اثبات میں سر ہلایا۔خوبرومسز اجمل NGOکی سربراہی کے علاوہ  بڑے سرکاری افسر کی اہلیہ کی شناخت رکھتی تھیں۔ مزاجاََحسن پرست اپنی چہرے اورجسم کی کی دیکھ بھال پر بھاری اخراجات کرتی تھیں۔”آ ج کون ہے جو خود کی سجاو ٹ بناوٹ سے بے نیاز ہے؟؟“  وزارتِ بہبود ِ خواتین میں دو سال سے متعین کو آرڈی نیٹر شزاکو یہ سوچ  مسز اجمل کے باور کرائی تھی۔                                                                                                                 باہر نسبتاََ خنکی تھی۔گاڑی میں مستعد ڈرائیور گھر پہنچانے کا منتظر کھڑا تھا،اس نے بیگ سیٹ پر رکھاارد گرد نظر دوڑائی۔خواتین کے چہروں پر رنگ جدا تھے،کوئی فکر مند تو کوئی بشاش،خاصے مشینی انداز میں اپنے اپنے راستوں پر رواں دواں۔ ہاتھ میں پکڑی ڈائری کھولی ”یہ خاتون کام کروانا خوب جا نتی ہیں۔“ کچی بستیو ں میں خواتین کے لیے ٹیکنیکل ٹریننگ سنٹر کا افتتا ح کسی خاتون وزیر کے ہا تھوں“ اس کی نگاہوں میں مسزنیلم کا پر کشش سراپا گھوم گیا  وزیر برائے گھریلو سیاست مگر اب وہ کہاں؟ شوہر کے ساتھ مقدمے میں پیشیاں بھگتا رہی تھیں۔اف  یہ میڈیا! کتنا بتنگڑ بنا رہے ہیں۔ ہر گفتنی نا گفتنی نشر ہو رہی ہے۔سگنل پر گاڑی رکی تو اس کی نظر ہا کر کے ہا تھ میں اخبا ر کی زینت بنی نیلم نواب زادہ کی رنگین تصاویر  میں الجھ گئیں۔ایسے میں انہیں مہمان خصو صی بنا نا پروگرام کی کا میابی پر حرف لا نا ہے                               
                       گھر کا بکھر نا،شوہر کے حوالے سے محروم ہو نا عورت کو کسقدر غیر معتبر بنا دیتا ہے“ اچانک اسے اپنا آپ یا د آ گیا۔ کس قدر exploit ہوا کرتی تھی گھر اور بچوں کے نام پر! مسعود کی ہر زیادتی کو کتنا برداشت کرتی تھی۔ اس کی اپنی کوئی حیثیت نہ رہی تھی۔کیا عورت اور مرد کے بیچ کوئی توازن قائم نہیں رہ سکتا؟؟شکر ہے کہ اس کے بچے اسکول جاتے تھے جو گھر سے  نکل کر نوکری کرنے میں نسبتا کم مشکلات کا سامناکر نا پڑا۔ ڈرائیور نے گاڑی آہستہ کر دی۔   ”اتنی لمبی قطار!نہ بنک ہے یہاں نہ کسی تنظیم کا امدادی کیمپ......“اس کی آوازمیں تھکن تھی۔                             
     ” جی نیا تندور کھلا ہے یہاں“  ڈرائیور نے اطلاع دی تو اسے یاد آگیا کہ مسعود نے تذ کرہ کیا تھا۔                                  ”اچھا“  اس نے پیسے ڈرائیور کی طرف بڑھائے   ” قطار میں لگے بھی تو کس کی؟ “                                             
 ”دس روٹیوں کے سو روپے بھی ناکافی؟“   ”کیا؟  اف مہنگائی کا گراف کہاں چلا گیا؟“تندوری روٹیوں کھا نے کے شوق نے کیسا شا ک لگا یا۔ ”کیا علاقے کی ساری خواتین نے روٹیاں پکانے سے استثناء حاصل کرلیا ہے ؟؟“اسے اپنی سوچ پر خود ہی ہنسی آگئی۔ موڑ کا ٹتے ہی بو تیک کے دروازے دور سے کھلے دیکھے تو شیزا کو کپڑے یاد آ ئے ۔تیزی سے سیڑھیاں پھلانگتی چلی گئی۔                                                                                                                                                      
           ”دو با ر آ چکی ہوں کپڑے وقت پر تیار نہیں ہو تے۔ سلائی تو روز بروزآ سمان سے با تیں کر رہی ہے،پانچ سال ہوگئے کپڑے سلواتے اب تو دسیوں دکانیں اور کھل گئی ہیں “  نہ جا نے کیوں شیزا کی آ واز اونچی ہو گئی۔خواتین کے جھرمٹ میں گھرے ماسٹر صاحب دھیمے لہجے میں بولے۔                                                                                                                           ”بے شک آ پ کہیں اور سے سلوانا چا ہیں تو سلوالیں سلائی تو سب کی یکساں ہے!ہمارے پاس کام بھی بہت ہے۔ماڈلز کے کپڑے سینا آسان ہے؟  عورتوں سے بحث الگ!!!“  بے سلے کپڑوں کا تھیلا اس کی طرف بڑھا دیا۔ خفّت زدہ وہ مڑی تو اپنی پڑوسن سیما کو پایا۔دونوں ہاتھوں میں بڑے بڑے شاپرزنیچے رکھے انتہائی گرمجوش مصافحہ کے لیے اور شزا بیزار...... بھلا جو عورتیں گھر وں میں رہتی ہیں انھیں درزیوں کے چکّرلگانے کی کیا ضرورت پڑی ہے؟؟ان درزیوں کے دماغ یونہی تو ساتویں آسمان پر نہیں ہیں۔ وہ سست قدموں سے باہر آ ئی۔                           
                               ”آج کا دن کیسا ہے؟“                                     کل رات کا منظر اس کی نگاہوں میں گھوم گیا۔کتنے فخر سے ہمانے اس کی طرف دیکھا تھا ”مما! یہ ہوم ورک بھی ہے اور لٹریری سوسائٹی کا پرو جیکٹ بھی۔ مس نے کلاس کو دوحصوں میں تقسیم کیا ہے۔ایک وہ جن کی مائیں گھروں تک محدود ہیں اوردوسراوہ جن کی ما ئیں گھروں سے باہر معاشرے کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال رہی ہیں۔ان دونوں گروپ کواپنی ماؤں کی ایک دن کی معلومات جمع کرنا اور پھر اس پر پر فا منس بھی ہے۔ سارے گروپ کی نظریں مجھ پر اور آپ پر ہیں."                                                                                                                                           
       آج کا دن!!“ اس کی سماعتوں سے کوئی باز گشت ٹکرائی خا موشی سے گیٹ میں دا خل ہو ئی تو سارا گھر سائیں سائیں کر رہا تھا۔ تھوڑی دیر میں بچے اسکول سے آ جائیں گے۔ باتھ روم کے آ ئینے میں چہرہ دھوتے ہوئے اسکا عکس کھلکھلایا۔” ما ڈلز ما ڈ لز “  تولیہ سے منہ پونچھتے  ہوئے رعنا بیو ٹی ایکسپرٹ سے یاد دہا نی کا میسیج آ گیا۔  ok کر کے وہ کچن کی طرف چلی گئی۔ بچوں کو کھا نا کھلاتے ہوئے اس کا دھیان با ر بار بھٹکتا رہاتنے میں مسعود آفس سے کھانے پرآگئے۔ہما نے کتنی بار اس سے اپنے پرا جیکٹ کاپو چھا تو اس نے اگلے دنوں پر ٹال دیا۔ طلحہ اور رافع کی نوک جھونک بھی وہ سنے بغیر ہوں ہاں کر تی رہی۔ مسعود نے اس کی ذہنی غیر حاضری محسوس کی۔ ”دراصل مما کو مساج کے لئے جانا ہے۔ آپ ڈراپ کردیں جب تک میں مما کی ڈائری سے ان کی مصروفیات دیکھ لوں گی۔“ ھما نے اس کے گلے میں بانہیں ڈالیں اور وہ منع بھی نہ کرسکی                                 گلی میں داخل ہوتے ہی گڑبڑ کا احساس ہوا،آ س پا س کے دکاندارسر باہر نکالے جھانک رہے تھے۔کچھ مرد حضرات تنے کھڑے تھے۔اندرناقابلِ یقین نظارہ منتظر تھا۔ دو خواتین رعنا کی ساتھی پر پل پڑی تھیں اور باقی کسٹمر سکتے کے عالم میں تینوں کو گتھم گتھا دیکھ رہی تھیں                                                                                                                                           ”آخر ہوا کیا ہے؟“  شزا آگے بڑھی۔ایک کونے سے نیم دراز خاتون سفید بھبھوت ملے چیرے کے ساتھ اٹھ بیٹھیں دو لڑکیاں جو ان کے چہرے اور ہاتھوں پر لیس دار چیزیں مل رہی تھیں۔دھکّا لگنے سے لڑکھڑائیں۔باہم دست وگریبان خوا تین ایک لمحے کو ٹھٹھکیں۔شزا کے ذہن میں ایک اشتہار گھوم گیا۔بند آنکھیں،پھیلے ہوئے ہاتھ،سفیدچہرہ ۔فرعون کی ممی                
          ”تم آگئیں شزا؟؟“     ”مسز اجمل؟؟“شزا نے تھوک  نگلا۔       ”پولیس کو بلاؤ“وہ کراہیں۔    ”نہی ی ی ی  ں“  کاؤنٹر پر بیٹھی لڑکی چیخی۔                                                                                                                                  
              ”میم ابھی آرہی ہیں سب ٹھیک ہوجائے ......“جملہ ادھورا رہ گیا۔ لوہے کاسٹول شیشہ سے جو ٹکرایا۔ہزارہاکرچیاں بکھر گئیں۔ دروازہ پر زور کی دستک نے ادھر متوجہ کرلیا۔ رعنا کے سر پہ سے اڑتی ہوئی شیمپو کی بوتلیں باہر جا گریں ادھر مسعود کے میسج پر میسج آ رہے تھے ۔  ”اندر کیا ہو رہا ہے؟؟“۔بالآخرپولیس کو طلب کرنا پڑا تو عقدہ کھلا کہ ایک خاتونِ خانہ اپنے ساتھ جواں سال ملازمہ کو لاتی تھیں بطورماڈل  طرح طرح کے میک ا پ اور سٹائل سیکھے جاتے تھے۔اس عرصے میں اس نے وہ تمام ضروری گر سیکھ لئے اور خاتون کے مجازی خدا  پرآزمالیے۔جب بات نکاح تک جا پہنچی تو ہوش آیا۔کمہار پہ بس نہ چلا تو گدھی کے کان مروڑ دیے اور اپنے گھر کے بجائے پارلر کو نشانہ بنالیاکہ ملازمہ کویہاں سے شہ ملی ہے۔                                      
                   جنگ اور محبت میں سب کچھ جائزہے خدا جانے یہاں محبت کا معر کہ تھا کہ گھرکی جنگ!!وہی گھرجس کے جنجال سے چھٹکارے کا بگل پارلیمنٹ سے پارلر تک بج رہا ہے۔ مگر شزا اور محصور خواتین کے دل سے کوئی پوچھتا۔ کوئی بھی جگہ میدان ِکارزار بن سکتی ہے! خیرپولیس کے آنے کے بعد تو کوئی بھی وہاں نہ رکنا چاہتا تھا۔ ساری خواتین ادھورے  میک اپ،فیشل،مساج کے ساتھ مضحکہ خیز حالتوں میں گھروں کی خبر لینے روانہ ہوگئیں۔مسز اجمل کوگھرجانے کے لئے مجبوراََ شزا کے سا تھ ہونا پڑا کہ ڈرائیور صاحب کے مہمانوں کو چھوڑنے گیا تھا۔ مختصر سے راستے میں بھی مسعودکمنٹری کرتے رہے ”اکھاڑہ کا انتخاب خوب تھا!“ مسز اجمل کے اتر تے ہی مسعود بے اختیار بول پڑے ”....خدا۔خیر کرے! اجمل صاحب  انہیں پہچان تو لیں گے نا!“جب اپنے گیٹ کے سامنے گاڑی روکی تو زور سے ہارن دیا بچے فوراََ نکلے مسعود پیٹ پکڑ کے دوہرے  ہوگئے۔ شزا بھی اپنی ہنسی ضبط نہ کرسکی    ۔
--------------------------------------------------------------
  نگہت یاسمین