مشترک
بحرِہند کے نیلگوں پانی میں چودھویں کا
چاندعکس بن کرجھلملا رہاتھا۔ ٹمٹماتے ستارے اپنی لوسے آسمان کی سج دھج میں جی جان سے
لگے ہوئے تھے۔دور کہیں کہیں ننھی منّی روشنیوں کی جگمگاہٹ لمحہ بھر کو ان کی ہم رکاب
ہوتی۔وہ بادلوں کے سنگ ہواؤں کے دوش پر اڑتے ہوئے منزل ممبئی کی سمت رواں دواں تھے۔
سیمی کو ایک طرف سے روی اور دوسری جانب سے اجے نے اپنے ہاتھ دے رکھے تھے ۔ کس
قدر سہانا احساس تھا،سبک،دل کو چھوتا ہوا،بالکل الف لیلوی داستان کا منظر،خوابوں کی
سرزمین بھارت کا سفر جاری تھا اچانک وہ نیچے ہی نیچے جانے لگے،روی اور اجے کے پرپھڑپھڑانے
اور بے حد زور لگانے کے باوجود ......سیمی نے گھبرا کے دائیں بائیں دیکھا کہیں اس کے
ہاتھ تو نہیں پھسل رہے۔گہرے پانیوں میں بنا کسی سہارے کے اترنے کاخیال تھرا گیا،نیچے
بحرِہند کی لہریں اونچی ہوگئیں شاید اسے وصول کر نے کو .........اس نے چیخناچاہا ’روی ی ی.........اجے ے ے .......... ‘ مگر حلق
میں آواز گھٹ گئی۔آنکھیں بند کرکے اس نے خود کو ڈھیلا چھوڑ دیاانجام کے سپرد ۔
متلاطم سانسوں کے ساتھ اس نے کشن مضبوطی سے دبوچ رکھا تھا۔تکیہ سے سر اٹھا کر
نیم واآنکھوں سے ارد گرد دیکھا اور دوبارہ بند کرلیں۔ ”تو کیا یہ خواب تھا؟“ سا ئیں سائیں کرتے کان،پیاس سے چٹختا خشک حلق
....آہستہ آہستہ وہ حال میں لوٹ آئی۔ تاریکی میں گھڑی کی ہندسے پونے چار پر چمک رہے
تھے،سرہانے کی میز سے پانی کا گلاس اٹھا کرلبوں سے لگالیا۔شکر ہے یہ خواب تھا پھر دیر
تک اندھیرے میں آنکھیں جھپکاتی سوچتی رہی دوبارہ کسی لمحہ نیند کی آغوش میں اتر گئی۔
سیل فون کی تیز آواز پر سیمی ہڑبڑاکر
اٹھی،”اوہ “ اس نے ہاتھ بڑھا یا،کئی ایک پیغام دیکھنے کے منتظر تھے۔ اسی لمحہ سامنے
دیوار پر لگی گھڑی نے آٹھ کا گھنٹہ بجایا۔
” توماماکمرہ میں آئیں تھیں “ کھڑکی
سے پردے کھینچے ہوئے تھے، صاف شفّاف آسمان پر اکّا دکّا بادل تیرتے دکھائی دیے، پورے
کمرے میں سورج کی کرنیں پھیل چکی تھیں۔عموماََ وہ اتنی دیر تک بستر میں رہنے کی عادی
نہ تھی،مگر پوری دنیا کی طرح آسٹریلیا کو بھی کرکٹ ورلڈ کپ کے جنون نے اپنی طلسم میں
جکڑ لیا تھا۔کل آدھی رات تک ایشیائی کمیونٹی سنٹر میں سب ہم جماعتوں،جاننے والوں اور
ممی پاپا کے ساتھ میچ دیکھنا کس قدرپر لطف تھا؟؟پاکستان نے میچ جیت کر اپ سیٹ جو کیا
تھا!! میچ اور بھارت بمقابلہ پاکستان!! کھیل کا لطف دوآتشہ خود بخود ہوجاتا ہے۔ سب
کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اڑ کرممبئی جا پہنچیں۔پہلے تو دیگر مصروفیات میں دھیان نہ
کیا اور اب سٹیڈیم میں جگہ تھی نہ ہوائی جہازوں میں۔
بھوک کا احساس ہوتے ہی اسے ا ٹھنا پڑا۔جلدی
جلدی منہ پہ چھپاکے مارے سیدھی کچن میں جا پہنچی۔چکنے فرش پر چہرے سے پانی کے قطرے
ٹپکتے رہے ۔دودھ کی بوتل نکالنےمڑی تو فرج
پر لگے نوٹ نے اس کی توجہ کھینچ لی ۔
" جینا ،پارو ،روی اور اجے کے
فون لینڈ لائن پر آچکے ہیں " اگر ان میں سے کسی کی کال آگئی تو ؟ وہ اس سے آگے سوچ
نہ پائی۔گرما گرم کافی کی خوشبو
سارے کچن میں پھیل گئی۔ بھوک چمک اٹھی اس
نے رغبت سے سلائس پر جام لگایا اوراونچے سٹول پر بیٹھتے ہوئے ریموٹ کا بٹن دبادیا۔ کل کے میچ کی سنسنی خیز جھلکیاں
تھیں رات کے خواب نے الجھن میں ڈال دیا
تھا سو بٹن دباتی چلی گئی ہر طرف تبصرے ، پیشن گوئیاں چل رہے تھے، بھارت اور
پاکستان کے درمیاں اب تک ہونے والے کُل میچ
اور ان کے نتائج زیر بحث تھے۔
"ورلڈ کپ سیمی فائنل کے بہانے مسلم کُش
فسادات کا اندیشہ " مشہور بھارتی نژاد اینکر میراب کی بات ادھوری رہ گئی۔
" محض اندیشہ ہے ،ورنہ بھارت
جیسی عظیم جمہوریت کو اپنی ساکھ کا خیال ہے اس کے با شعور عوام داؤ پر کیوں لگائیں گے؟ یہ تو پاکستان
ہے جو اجمل قصاب جیسے لوگو ں کی
تربیت گاہ ہے۔ دہشت گردی کا گڑھ اور بدی کا محور ہے "انڈیا سے مدعو چوٹی کے سفارت کار شری انجو رائے نے چبا
چبا کر جملہ مکمل کیاتو بےتحاشا پذیرائی وصول کی ۔جواب کے لئے سب کی نظریں پاکستانی
صحافی الماس صوفی کی طرف اٹھ گئیں ۔
" بھارت جمہوری
اور بڑا ملک ہونے کا دعوے دار ہے اس کی پروپیگنڈا مشینری بھی بین الاقوامی اثر و
رسوخ رکھتی ہے مگر یہ بھی سچ ہے کہ اگر پاکستان سیمی فائنل میں بھارت کو شکست دے
کر و رلڈ کپ فائنل میں پہنچ جاتا
ہے جس کا وہ اہل ہے "تالیوں کی گونج میں
بقیہ جملہ بمشکل مکمل ہوا ۔
"تو فسادات کا
اندیشہ حقیقت بن جاتا اور یہ کہ بھارتی سرکار اور میڈیا اس کا الزام پاکستان پر
رکھ دیتی۔ جیسا کہ اس سے قبل کلکتہ میں ہو چکا ہے۔ " اب دلائل کے بجائے
جذباتی حملے شروع ہو گئے۔
سکرین پر شور کے سوا
کچھ نہ تھا۔ وہ
شدید تنہائی محسوس کرنے لگی ۔اس
کا دل کسی اپنے کے ساتھ کو چاہنے لگا۔ ممی اور شہری کے آنے میں بہت وقت تھا۔ کالج جانے کا
ارادہ کیا۔ ورلڈ کپ پر ہونے
والی گفتگو الفاظ کی جنگ میں تبدیل ہو چکی تھی۔ اور کہاں تک جائے گی اس کا کسی
اندازہ نہ تھا ۔اچانک گھنٹی کی آواز پر بیرونی دروازہ
کھولا تو ریاض بھائی کھڑے تھے پاپا کے کزن کے بیٹے ،کچھ مہینے پہلے پاکستان سے ایم
ایس کرنے آئے تھے۔ شروع میں پاپا ویک اینڈ پر بلالیتے مگر اب پڑھائی کے سبب کم کم
ہی آتے۔
" آپ گھر پر ہیں ؟ ریاض کی گھمبیر آواز
ابھری۔
" بس جانے ہی والی تھی ممی
پاپا جلدی ہسپتال چلے گئے ، آپ اندر نہیں
آئیں گے ؟ میں ناشتہ ہی کر رہی تھی" ایک
ہاتھ سے بال سمیٹتے ہوئے کہا۔
" شہر یار کی کتابیں ہیں "
انھوں نے ہاتھ میں پکڑا بنڈل اس کی طرف
بڑھا دیا۔
آپ ایک favour دیں تو آپ کے ساتھ کالج نکل جاؤں ۔ایک
کپ کافی پی لیں"
" ہوں " انھوں نے اس کا
چہرہ دہکھ کر قدم اندر بڑھا دیے۔ لاؤنج کے کاؤچ پر وہ ٹک گئے ۔
" آپ جلدی سے تیار ہو جائیں
" وہ اسے رکتے دیکھ کر بولے ۔
" جی " پھینٹی ہوئی کافی میں گرم دودھ ڈال کر کپ سامنے رکھ دیا۔ " ابھی آئی " کمرے
میں لٹکے ہینگر سے آسمانی پاجامہ سیاہ
ٹیونک کھینچ لیا۔ سیدھے بالوں کی ڈھیلی پونی بنا کر بیگ اٹھا لیا۔ لاؤنج میں آتے ہوئے آئینے میں
دیکھا پھر نا جانے کیا سوچ کر آسمانی سکارف کندھوں پر لے لیا جو ممی نے سالگرہ پر
تحفے میں دیا تھا۔
" چلیں ریاض بھائی " ان کے قریب آکر مخاطب ہوئی۔
شہر ی کی کتابیں میز سے اٹھا کر کچن کاؤنٹر پر رکھدیں ۔
"کمیونٹی سینٹر میں آئیں گے ؟"سیمی
نے اشتیاق سے پوچھا۔ " وقت ملا تو
۔۔" معمول کے لب ولہجہ میں نپا تلا
جواب ملا۔
افوہ پتہ نہیں یہ اتنا کم کیوں بولتے ہیں ؟شاید اپنی خوبصورت آواز کا احساس
ہےجب بھی ویک اینڈ پر آ تے تو ناشتے کی میز پر وہ یہ سوچتی رہتی ۔پاپا اور شہری کی
باتوں کا دھیمے دھیمے جواب دیتے۔ وہ آ واز کے سحر میں کھوئی رہتی۔ اس کا دل چاہتا
کہ پاکستان کے بارے میں جانے پوچھے کہ چمکتے انڈیا کے پڑوس میں دقیانوسیت کا بخار
کیوں ؟ آج کی دنیا میں بنیاد پرستی کی گنجائش کہاں پاکستان جس پر گامزن ہے ؟
19 سالہ سیمی کا تعلق اس نسل سے تھا
جو آسٹریلیا میں پیدا ہوئی پلی بڑھی ممی رابعہ اور پاپا احسان پچیس سال پہلے کراچی سے
میڈیسن کےفوراََبعد شادی کے بندھن میں ایک ہوئے۔ پھر مزید پڑھنے لندن جا پہنچے ڈھائی سال بعد وطن واپسی کے بجائے
آسٹریلیا کے شہر پرتھ ملازمت ،شہریت اختیار کرلی۔ اول تو ہسپتال سے فرصت کم ملتی
اور جب ملتی کہ پاکستان کا چکرلگائیں تو حالات کی خرابی اس پروگرام کو ملتوی
کردیتی۔اب پھپو دبئی میں اور فرقان چاچا
سعودیہ میں توکیوں کر جاتے ؟ یوں سیمی اور
شہریار دونوں ہی اپنے والدین کے وطن کو سرسری جانتے ۔ دوسروں کی نظر سے دیکھتے۔
میڈیا کی پیش کردہ تصویر سے جانچتے۔فرقہ ورانہ ،لسانی فسادات کی سرزمین طالبان کی
سرپرست،بےروزگاری ،غربت تعلیم جیسی ضروریات سے محروم آبادی۔روشن خیالی اور ترقی
پسندی سے کوسوں دور مگر پھر بھی دونوں کو ایک تجسس تھا ممی پاپا کے پاکستان کو
دیکھنے اور سمجھنے کا۔ تین سال بڑا سنجیدہ
مزاج شہریار میڈیسن میں مصروف رہتا۔ فارغ
وقت فلاحی تنظیم میں گذارتا۔
" شہری بھی مصروف ممی اور پاپا بھی میں جاننا چاہتی ہوں اچھے پاکستان کے ساتھ اتنا کچھ غلط کیوں منسوب ہے؟ آپ
بتائیں گے؟"
" خوب آپ کو غلط اور اچھا بیک وقت کیسے محسوس ہوا؟ " " وہ میرے کلاس
میں ہیں پارو ،جینا مذاق اڑاتے ہیں "
"اور پاپا جب
چاچا، پھپو دوستوں سے بات کرتے تو ایسا
لگتا کہ وہ بہت کچھ مِس کرتے ہیں ؟ مجھے
لگتا کچھ پراسرار ہے پاکستان "
" آپ کے سوال
میں ہی موجود ہے جواب ،پاکستان انڈینز کے
لئے غلط اور اپنوں کے لئے پناہ گاہ ،ماں کی گود جیسا "
" ہوں ،اچھا
" سڑک پر چلتے ہوئے سیمی ٹھہری " آپ خوابوں پر یقین کرتے ہیں؟ "
" یہ تو خواب کی نوعیت پر منحصر ہے " گول مول جوا ب
دیا۔
"
یعنی اچھا ہوا تو مانیں گے ڈراؤنا ہوا تو نہیں ؟ "
"
یہ بتائیں کہ آپ نے کیا دیکھا ؟ پاکستان یا انڈیا ؟"انھوں
نے براہ
راست اس کی آنکھوں میں دیکھا ۔ پھر سامنے اشارہ کیا ،کالج کی بلڈنگ نظر آرہی تھی یہاں سے ان کا
راستہ مختلف تھا۔ سیمی کی آنکھیں حیرت سے پھیلیں اس کے لب کھلے تھے کہ " ہائے
سیمی " کی آواز کے ساتھ ہی
دو ہاتھوں نے اسے تھام لیا۔
"پارو اور جینا
" " یہ ریاض بھائی " اس نے تعارف کروایا۔ کلاس شروع
ہونے والی تھی۔ لیکچر کے فورا بعد
لائبریری کا رخ کیا۔ وہاں بیٹھ کر
کتاب پڑھنے کے بجائے لان میں لگی سنگی بنچ
پرسب ٹک گئے ۔ سیمی نجانے کیوں ممبئی جانے کے بارے میں بات کرتے جھجک رہی تھی
کہاں تو وہ اتنی پرجوش تھی مگر اب میچ کے بجائے کلاس میں دیے گئے پروجیکٹ کوجلد از
جلد مکمل کرنے کے لیے فکر مند تھی اور اپنے نیلے سکارف کی خوبصورتی کا ذکر بار بار کرتی رہی ۔ اس نے اپنے دوستوں
کو الجھن میں میں ڈال دیا تھا۔ خیر سب نے
یہیں رہنا تھا ساتھ ساتھ میچ کے بعد بھی ایک کنبے کی مانند۔
30 مارچ 2011 کا دن بھی آن پہنچا ۔ اس شام کمیونٹی سینٹر ممی پاپا کے ساتھ پہنچ کر حیرت
کا سامنا تھا۔ بہت بڑی سکرین دیوار کے ساتھ دیکھ کر نہیں ریاض بھائی کوموجود
پا کر ۔ ابھی میچ شروع ہونے میں کچھ دیر تھی۔اس نے دوسرے سرے پر بیٹھے اجے
۔روی جینا اور پارو کو ہاتھ ہلایا۔ پھر کھیل شروع ہوا ،اس قدر دلچسپ کہ وقت گذرنے
پتہ ہی نہ چلا۔ دل کی دھڑکنیں بار
بار بے ترتیب ہوتی رہی۔ میچ کا پانسہ پاکستان کے حق
میں تھا۔
اچانک اسٹیڈیم میں آگ کے شعلے بھڑک اٹھے، نارنجی دھوتیوں اور
پگڑیوں میں تلک لگائے بھارت کا ترنگا لہراتے
ہوئے جنونی آگ لگا رہے تھے۔نعرے لگاتا ہجوم ڈنڈوں سے لیس ہر شے توڑ پھوڑ کر اپنے جذبات کی جھلک دکھارہا
تھا۔ وحشت کے مارے سب اپنی نشستوں سے اٹھ کھڑے تھے۔
" نہیں نہیں یہ منظر بھارت کا نہیں ہو سکتا یہ سب آخر کیا ہے ؟ "
اپنے خوابوں ،خیالوں کو یوں جلتا دیکھ کر سیمی نے چلانا چاہا مگر اس کی آواز حلق
میں گھٹ گئی ۔
" ارے بھئی کچھ
خاص نہیں ہے یہ جمہوری بھارت ہے پر امن بھارت کا خمیر گوئبلز کے فلسفے سے اٹھا
اور اسی پر کھڑا ہے یعنی جھوٹ اتنا بولو کہ سچ معلوم ہو نے لگے "ریاض
بھائی کے چہرے پر شرارت آمیز مسکراہٹ ناچ رہی تھی ۔
" یہ کون ہیں ؟اجمل
قصاب تو نہیں ہے " صرف اسٹیڈیم ہی نہیں سلگ رہا تھا بلکہ ساتھ ہی بھارت کا
جمہوری ِترقی پسند چہرہ soft image بھی شعلوں کی نذر ہورہا تھااور
مستقبل کا آسمان بھی دھویں سے سیاہ پڑگیا تھا ۔
" مستقبل کا سپر
پاور ۔۔پرامن ثقافتی خطہ ۔۔فرقہ ورانہ
فسادات سے پاک ۔۔چمکتی سیلیکون ویلی"
الفاظ ٹوٹ ٹوٹ کر سیمی کے لبوں پر آرہے
تھے۔
" پاکستان کی
فتح کے امکان پر غصہ کا اظہار محض ایک کھیل میں بھی۔۔۔۔" پاکستانی صحافی کی کی آواز ابھری۔
" یہ بھارت کی
چتا ہے جس میں ترقی ،امن اور سیکولر ازم
سب کچھ جل کر راکھ ہو رہا ہے "
" ہم ایک نہیں
ہیں ،نہ کل ایک تھے ، ہم میں کچھ بھی تو مشترک نہیں "
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نگہت
یاسمین
کراچی